تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 654
اقتباس از تقریر فرموده 30 مارچ 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم سیرالیون سے خبر آئی ہے کہ احمدیت کی ترقی کی وجہ سے وہاں عیسائیوں نے منظم طور پر حملہ شروع کر دیا ہے۔اس ملک میں زیادہ تر تبلیغ مدرسوں اور سکولوں کے ذریعہ ہوتی ہے اور مدرس چونکہ مسلمان نہیں ملتے ، اس لئے عیسائیوں کو ملازم رکھ لیا جاتا ہے۔اب عیسائیوں نے آپس میں مشورہ کر کے عیسائی مدرسین کو ہدایت کی ہے کہ وہ احمدی مدارس میں یہ مطالبہ کریں کہ انہیں اتوار کی چھٹی دی جائے تا کہ وہ گر جائیں شامل ہو سکیں۔ان کی پالیسی یہ ہے کہ سرکاری گرانٹ کسی ایسے سکول کو نہیں مل سکتی، جو ہفتہ میں چھ دن سے کم کھلا رہے۔ہمارے مدارس میں چونکہ جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے اور اسلامی احکام کے لحاظ سے ہونا بھی ایسا ہی چاہئے۔اس لئے انہوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا ہے کہ ہمیں اتوار کو چھٹی دی جائے۔اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ اگر اتوار کو بھی چھٹی دے دی گئی اور جمعہ کو پہلے ہی چھٹی ہوتی ہے تو ہفتہ میں صرف پانچ دن پڑھائی ہوگی اور سر کاری گرانٹ بند ہو جائے گی۔عیسائیوں نے اپنے مدرسین سے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر احمد یہ مدارس سے اس مطالبہ کی بناء پر تمہیں علیحدہ کر دیا جائے تو ہم تمہارے لئے نئے سکول کھول دیں گے۔وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کو ہٹا دیا گیا تو انہیں اپنے سکول بند کرنے پڑیں گے اور اگر ان کا مطالبہ مان لیا تو سرکاری گرانٹ سے محروم رہنا پڑے گا۔یہ ایک نیا حملہ ہے، جو سیرالیون میں عیسائیوں کی طرف سے ہماری جماعت پر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دشمن کی ان شرارتوں کے بداثرات کو دور فرمائے اور اسے اپنے ارادوں میں نا کام کرے۔اس مخالفت کا حقیقی علاج تو یہی ہے کہ ایسے مبلغ ہمارے پاس کثرت سے تیار ہوں، جو اس ملک میں مدرسوں کا کام کریں اور عیسائی مدرسین کی ہمیں ضرورت نہ رہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری تجویز میں نے یہ کی ہے کہ ایک نوجوان کو انگلستان بھجوانے کا فیصلہ کر دیا ہے۔وہ وہاں سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کر کے ویسٹ افریقہ جائے گا اور لنڈن میٹرک کے اصول کے مطابق وہاں ایک سکول جاری کرے گا۔جس میں پڑھے ہوئے نو جوانوں کو گورنمنٹ کے قانون کے مطابق بطور مدرس رکھا جا سکے گا۔اس موقع پر میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہمیں فوری طور پر ایسے نو جوانوں کی ضرورت ہے، جو اپنی زندگیاں وقف کریں تا کہ انہیں افریقہ میں تبلیغ کے لئے بھجوایا جا سکے۔اگر ایک سو نو جوان ہمیں ایسے مل جائیں تو ہم مغربی افریقہ کی ضرورت کو ایک حد تک پورا کر سکتے ہیں۔ابتداء میں بے شک کچھ خرچ ہو گا لیکن وہاں کی جماعتیں بہت جلد ان کے اخراجات کو برداشت کرنے کا وعدہ کرتی ہیں، اس صورت میں مرکز پر ان کا کوئی بوجھ نہیں رہے گا اور وہ مقامی جماعتوں کے خرچ پر مغربی افریقہ میں تبلیغ کو وسیع کر سکیں گئے۔رپورٹ مجلس شوری منعقد ہ 30 مارچ تا یکم اپریل 1945ء) 654