تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 650 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 650

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 23 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہوتا ہے کہ میری موٹر ڈاک بنگلے کی طرف جارہی ہے۔بنگلہ کے پاس جب میں موٹر سے اترا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے عرب جن میں کچھ سیاہ رنگ کے ہیں اور کچھ سفید رنگ کے، میرے پاس آئے ہیں۔میں اس وقت اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف جانا چاہتا ہوں لیکن ان عربوں کے آجانے کی وجہ سے ٹھہر گیا ہوں۔انہوں نے آتے ہی کہا:۔السلام عليكم ياسيدى۔میں ان سے پوچھتا ہوں۔من این جئتم؟ کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ جئنا من بلاد العرب وذهبنا الى قادیان و علمنا انک سافرت فاتبعناک علمنا انک جئت الى هذا المقام۔یعنی ہم قادیان گئے اور وہاں معلوم ہوا کہ آپ باہر گئے ہیں اور ہم آپ کے پیچھے چلے۔یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں۔اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ لای مقصد جئتم؟ کس غرض سے آپ تشریف لائے ہو ؟ تو ان میں سے لیڈر نے جواب دیا کہ جئنا لنستشيرك فى الامور الاقتصادية والتعليمية۔اور غالبا سیاسی اور ایک اور لفظ بھی کہا۔اس پر میں ڈاک بنگلہ کی طرف مڑا اور ان سے کہا کہ اس مکان میں آجائے ، وہاں مشورہ کریں گے۔جب میں کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میز پر کھانا چنا ہوا ہے اور کرسیاں لگی ہیں اور میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی انگریز مسافر ہوں۔ان کے لئے یہ انتظام ہو اور میں آگے دوسرے کمرے کی طرف بڑھا۔وہاں فرش پر کچھ پھل اور مٹھائیاں رکھی ہیں اور اردگرد اس طرح بیٹھنے کی جگہ ہے جیسے کہ عرب گھروں میں ہوتی ہے۔میں نے ان کو وہاں بیٹھنے کو کہا اور دل میں سمجھا کہ یہ انتظام ہمارے لئے ہے۔ان لوگوں نے وہاں بیٹھ کر پھلوں کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔اس رویاء سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے بلاد عرب میں احمدیت کی ترقی کے دروازے کھلنے والے ہیں۔اسی طرح میں نے ایک اور رویاء دیکھا کہ میر قاسم علی مرحوم آئے ہیں۔انہوں نے گرم کوٹ اور گرم پاجامہ پہنا ہواہے اور وہ مضبوط جوان معلوم ہوتے ہیں۔قاسم علی میں بھی عرب کی طرف اشارہ معلوم 650