تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 648 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 648

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کچھ اور لوگ کھڑے کر دے گا۔لیکن اسے انسانی کمزوری کہ لو یا فطری عمل کہہ لو۔یہ بہر حال انسان کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ جس کام کی داغ بیل میں نے ڈالی ہے، اس کے ثمرات کو بھی دیکھ لوں۔اس لئے اب جب کہ تحریک جدید کا بارھواں سال شروع ہو رہا ہے ، میں جماعت کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ گیارھویں سال کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اس طرح اپنے رب کی رضا حاصل کریں۔اسی طرح تحریک جدید دفتر دوم کی طرف جماعت کو خاص توجہ سے کام لینا چاہئے۔جن دوستوں نے پہلے حصہ نہیں لیا ، وہ اب حصہ لیں اور جن لوگوں نے پہلے حصہ لیا ہے، وہ اپنی رقوم کو بڑھانے کی کوشش کریں۔اس وقت تک دفتر دوم میں جن لوگوں نے اپنے وعدے لکھوائے ہیں ، ان کی تعداد بہت کم ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے تحریک جدید کے لئے ہمیں کم از کم تین لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔اور ریز روفنڈ کی ضرورت اس کے علاوہ ہے۔لیکن وعدے کل پچاس ہزار کے ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ پہلے دفتر کے وعدوں کی معیاد ختم ہونے پر سب کام اسی طرح ختم ہو جائے گا، جس طرح ایک اونچی عمارت زلزلہ کے دھکے سے گر جاتی ہے۔میں نے غور کر کے محسوس کیا ہے کہ شاید دفتر دوم کے وعدوں کے زیادہ سخت شرائط ہیں یا یہ کہ ابھی اس دور کے آدمی ایمان کے اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچے۔اس لئے بڑی کمی ہے۔دفتر دوم کے لئے میں کچھ آسانی کر دیتا ہوں۔پہلے میں نے ایک مہینے کی تنخواہ کی شرط رکھی تھی لیکن اب میں نصف اور تین چوتھائی تنخواہ کی بھی اجازت دیتا ہوں۔یعنی تینوں طرح چندہ دیا جا سکتا ہے، پورے مہینے کی تنخواہ دے کر بھی اور اگر کوئی پورے مہینے کی تنخواہ نہ دے سکتا ہو تو وہ اپنی تنخواہ کا پچھتر فی صد دے کر بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے اور اگر پچھتر فی صدی کا حصہ نہیں دے سکتا تو پچاس فی صدی حصہ دے کر بھی شامل ہو سکتا ہے۔لیکن بہر حال ضروری ہوگا کہ انہیں سال تک متواتر قربانی کی جائے اور کچھ نہ کچھ پہلے کی نسبت اپنے چندہ کو بڑھایا جائے۔اب چونکہ بہت سے لوگ فوج سے واپس آگئے ہیں اور ان کی تنخواہیں پہلے سے کم ہوگئی ہیں، اس لئے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا یہ قاعدہ اسی سال کی تنخواہ کے حساب سے ہو گا۔خواہ اسے تھوڑی تنخواہ ملتی ہو یا بہت۔مثلاً ایک شخص کو فوج میں اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ ملا کرتی تھی لیکن اب اسے پچاس روپے ملتی ہے تو اب اس کا چندہ پچاس روپے ہو جائے گا نہ کہ اڑھائی سور و پیر۔ہاں اس کا فرض ہوگا کہ وہ اپنی موجودہ تنخواہ کے لحاظ سے ہر سال کچھ نہ کچھ اضافہ کرتا چلا جائے۔آج میری صحت خراب تھی اور میری بیماری مجھے یہاں آنے کی اجازت نہ دیتی تھی لیکن اس کے باوجود میں آگیا ہوں۔یہ سمجھتے ہوئے کہ کیا پتہ ہے کہ اگلے سال کی تحریک کے اعلان کرنے کا مجھے موقع 648