تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 642 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 642

خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم وہ نب کسی کے پاس نہیں دیکھا۔لیکن باوجود اس کے وہ لوگ اشتہارات پر بہت سارو پیہ خرچ کر دیتے ہیں تا کہ ان کے نام کی شہرت ہو جائے۔اور دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جس فرم یا جس کمپنی کا نام لوگوں نے سنا ہوا ہو، اس کی چیز خریدلیں گے۔قطع نظر اس کے کہ وہ چیز کسی کام کی ہے یا نہیں؟ پس اپنی چیز کو شہرت دینا، اس زمانے میں تجارت کا ایک ایسا حصہ ہے، جس کے بغیر تجارت میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔فرض کرو ایک شخص جس چیز کی شہرت نہیں ، وہ بازار میں اپنی چیز لے کر آیا اور سارے بازار میں پھر گیا لیکن اس سے کسی نے نہ خریدی۔تو اس کا بازار میں پھر نا بے فائدہ اور بے کار نہیں ہوگا۔بلکہ دوسری دفعہ جب وہ آئے تو اس کو نئی واقفیت پیدا کرنے یا واقفیت کرانے کی ضرورت نہ ہوگی۔کیونکہ بازار کے لوگ اس کے متعلق جانتے ہوں گے کہ ان کا فلاں چیز کا کارخانہ ہے اور جس کو ضرورت ہوگی ، وہ اسے آرڈر دے کر اس سے لے لے گا۔اور اس کا پہلی دفعہ آنا، اسے نئی تحقیقات سے بچالے گا۔اور ایک دفعہ جب واقفیت ہو جائے تو پھر لوگ ہمیشہ تحقیقات نہیں کیا کرتے۔میں حیران ہوں کہ تاجر لوگ ان باتوں کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں اس طرف توجہ دلانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔بہر حال ہمارے محکمہ تجارت کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اسے صناعوں سے تحریک کرتے رہنا چاہئے اور بار بار لوگوں کو کہنا چاہئے کہ جو لوگ انہیں نمونے بھیجیں، ان کو وہ بنیاد کے طور پر استعمال کریں اور اپنی عمارت کی اس پر بنیا د رکھیں۔اور میں جماعت کے تاجروں اور صناعوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ محکمہ تجارت سے تعاون کریں اور اپنی چیزوں کے نمونے اسے بھیج دیں۔جن لوگوں کے نمونے آئیں گے ، ہم ان کے لئے کوشش کریں گے کہ ہندوستانی اور بیرونی ممالک میں جہاں جہاں ہمارے آدمی موجود ہیں، وہاں ان کے نمونے بھجوا دیں۔پھر جس جس ملک سے مانگ آئے گی ، اس کو مہیا کرتے چلے جائیں گے۔پس جن لوگوں نے تجارت کے لئے زندگیاں وقف کیں ہیں، ان کو گھبرانا نہیں چاہئے اور جلدی نہیں کرنی چاہئے۔جوں جوں ان کے لئے کام نکلتا آئے گا، ہم ان کو بلاتے جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت تینوں کی گھبراہٹ فضول ہے۔یعنی زندگیاں وقف کرنے والوں کی جلدی کرنا اور گھبرانا فضول ہے، ہم ان کو بلانے کے لئے آہستہ آہستہ انتظام کر رہے ہیں۔اور تاجروں اور صناعوں کا بخل بھی غلط ہے، انہیں اپنے نمونے بھیجنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔اور محکمہ تجارت والوں کو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ، اگر احمدی تاجر اور صناع ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے تو کوئی حرج نہیں۔ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے پاس بہت کام ہے اور تمام تجارت انہیں کے ہاتھوں میں ہے، ان سے مل کر اپنے 642