تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 638
خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء تحریک ج<mark>دی</mark>د - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم کہ ہمیں درخواست <mark>دی</mark>ئے ہوئے اتنی <mark>دی</mark>ر ہو گئی ہے لیکن ابھی تک ہمیں بلایا نہیں گیا اور وہ بار بار اس کے متعلق خط لکھ رہے ہیں۔حال<mark>ان</mark>کہ <mark>ایسے</mark> کام کے لئے بہت لمبے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔آخر <mark>ان</mark> لوگوں کو <mark>ایسے</mark> علاقوں میں بھجوا<mark>دی</mark>نا، جن کے متعلق ہمیں کچھ بھی علم نہیں کہ وہاں کے حالات کیسے ہیں؟ کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ بیشک وقف <mark>کر</mark>نے والے اپنی زندگی وقف <mark>کر</mark> <mark>دی</mark>تے ہیں لیکن ہمیں بھی تو عقل سے کام لینا چاہئے۔جس جگہ کے حالات کے متعلق نہ ہمیں خبر ہو، نہ پستہ اور نہ ہم وہاں کے حالات کا <mark>ان</mark>دازہ لگا سکتے ہوں، ایسی جگہ کسی آدمی کو بھیجنا گویا اس کو ایسی مصیبت میں ڈالنا ہے کہ ممکن ہے ، وہ اس مصیبت کو برداشت نہ <mark>کر</mark> سکے۔پس ہمیں جب تک <mark>ان</mark> علاقوں کے حالات کے متعلق پوری واقفیت نہ ہو <mark>جائے</mark> ، ہم کیوں کسی کو مصیبت میں ڈالیں؟ <mark>تجارت</mark> کی اس سکیم کے لئے ابتدائی کاروائی شروع <mark>کر</mark> <mark>دی</mark> گئی ہے اور یہ تجویز کیا گیا ہے کہ بمبئی میں تحریک ج<mark>دی</mark>د کی طرف سے ایک ایجنسی جاری کی <mark>جائے</mark> اور ہمارے دو تین آدمی کمیشن ایجنسی کا بمبئی میں تجربہ حاصل <mark>کر</mark>یں۔کیونکہ <mark>ایسے</mark> آدمیوں کا ملنا مشکل ہے، جو اس کام کے متعلق پہلے ہی تجربہ رکھتے ہوں۔جب یہ اس کام کو سیکھ لیں گے تو <mark>ان</mark> کو مدراس، <mark>کر</mark>اچی یا <mark>دوسری</mark> جگہوں میں <mark>پھیل</mark>ا <mark>دی</mark>ا <mark>جائے</mark> گا اور <mark>ان</mark> کے ساتھ کچھ اور آدمی لگا دئیے <mark>جائیں</mark> گے، جن کو یہ لوگ کام سکھائیں گے۔اس طرح تھوڑے تھوڑے آدمی کام سیکھتے چلے <mark>جائیں</mark> اور کام پر لگتے چلے <mark>جائیں</mark> گے۔ابتدا میں ہر علم کو سیکھنا پڑتا ہے۔کیونکہ بغیر سیکھے کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح <mark>تجارت</mark> کا علم بھی سیکھنے سے ہی آتا ہے۔بیرونی ممالک میں سے بعض ملکوں میں ہمارے آدمی پہنچ چکے ہیں اور <mark>ان</mark> کی طرف سے خط و کتابت جاری ہے اور امید ہے کہ جل<mark>دی</mark> ہی <mark>ان</mark> بیرونی ممالک اور ہندوست<mark>ان</mark> میں <mark>تجارت</mark> کا کام شروع ہو <mark>جائے</mark> گا۔مجھے محکمہ <mark>تجارت</mark> کی طرف سے یہ شکایت پہنچی ہے کہ احم<mark>دی</mark> صناع <mark>ان</mark> کے ساتھ تعاون نہیں <mark>کر</mark>تے۔اس کے برعکس غیر احم<mark>دی</mark> صناع <mark>ان</mark> سے ہر قسم کا تعاون <mark>کر</mark> رہے ہیں۔بعض احمد ی <mark>صناعوں</mark> سے کہا گیا کہ جو چیزیں وہ تیار <mark>کر</mark>تے ہیں، <mark>ان</mark> کا نمونہ <mark>دی</mark>ں لیکن <mark>ان</mark> میں سے کسی نے بھی نمونہ نہ <mark>دی</mark>ا۔اس کے مقابلہ میں سیالکوٹ کے ایک صناع نے ، جو غیر احم<mark>دی</mark> ہے، محکمہ <mark>تجارت</mark> والوں کو لکھا کہ میں اس کے لئے تیار ہوں اور جب محکمہ والوں کی طرف سے اسے جلد جواب نہ پہنچا تو وہ خود قا<mark>دی</mark><mark>ان</mark> آیا اور کہا کہ میں واپس جاتے ہی اپنے مال کے نمونے بھجوادوں گا۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے گذشتہ خطبات میں بی<mark>ان</mark> کیا تھا کہ ہماری <mark>غرض</mark> <mark>تجارت</mark> کے ذریعہ تبلیغی سنٹر <mark>قائم</mark> <mark>کر</mark>نا ہے۔اگر بڑے بڑے شہروں میں ہمارے <mark>تجارت</mark>ی مرکز <mark>قائم</mark> ہو <mark>جائیں</mark> تو <mark>ان</mark> مرکزوں کے ذریعہ تبلیغ بہت آس<mark>ان</mark>ی سے وسیع کی جاسکتی ہے اور <mark>جماعت</mark> پر کسی قسم کا مالی 638