تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 637

خطبہ جمعہ فرمود و 02 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم مہینوں میں دورے کئے جائیں اور اپریل کا مہینہ چھٹی کر دی جائے۔کیونکہ یوپی میں اپریل مئی کے مہینوں میں شدید گرمی ہوتی ہے، اس لئے کام نہیں ہو سکتا۔پھر جون، جولائی اگست میں یوپی اور بہار کا دورہ کیا جائے اور ستمبر، اکتوبر نومبر اور دسمبر میں بنگال، آسام کا دورہ ہو تو دوسال میں سارے ہندوستان کا دورہ ہو جائے گا۔لیکن اگلے سال تک اگر دوسری پارٹی تیار ہو جائے تو ان دو پارٹیوں میں سے ایک پارٹی شمالی ہند کا دورہ کر سکتی ہے اور دوسری جنوبی ہند کا۔اس طرح ایک ہی وقت میں سارے ملک میں آوازیں بلند کی جا سکتی ہیں۔ان دوروں کے وقت جو اعتراضات ان مبلغین پر ہوں، وہ ان کو جمع کرتے چلے جائیں۔اور جب وہ ایک مہینہ کی چھٹی پر قادیان آئیں تو ان کی روزانہ مجلس ہو، جس میں ان سوالوں کے جواب تیار کئے جائیں اور جو مشکلات ان کو پیش آئیں ، ان کو مد نظر رکھ کر آئندہ پروگرام بنایا جائے۔اس طریق سے ایک ہی وقت میں بہت سے مقامات میں احمدیت کی آواز بلند کی جاسکتی ہے۔اگر ہمارے پاس کافی تعداد میں آدمی تیار ہو جا ئیں تو سارے ہندوستان میں منظم طور پر یہ تبلیغی سکیم جاری کی جاسکتی ہے۔اگر ہمیں انگریزی میں تقریر کرنے والے چھ سات آدمی مل جائیں اور ان کے ساتھ عربی دانوں اور ہندی دانوں کو ملا کر چھ گروپ بنادیے جائیں تو بار بار سارے ہندوستان میں تقریریں ہو سکتی ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت زیادہ کام سرانجام دیا جاسکتا ہے۔اور ہم ہندوستان کے ہر گوشہ میں اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔اس طرح ہندوستان کے ہر بڑے شہر میں ہمارے مبلغین کو مجموعی طور پر سال میں قریبا تین ہفتے ٹھہرنے کا موقع ملا جایا کرے گا۔پس جہاں میں نظارت دعوۃ و تبلیغ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس قسم کی تبلیغ کا انتظام کریں۔وہاں میں نوجوانوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیاں اس کام کے لئے وقف کریں اور خدمت دین کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بنیں۔کسی کا یہ خیال کر لینا کہ موجودہ مبلغوں میں سے کسی مبلغ کو فارغ کر لیا جائے گا، درست نہیں۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے موجودہ مبلغوں میں سے کوئی بھی اس کام کے لئے فارغ نہیں کیا جاسکتا۔پہلے ہی مبلغین کے پاس اتنا کام ہے جوان کی طاقت سے بیسیوں گنا زیادہ ہے۔پھر پہلے مبلغین کا کام اور قسم کا ہے اور یہ کام اور قسم کا ہوگا۔بہر حال ہم پہلے مبلغین میں سے کسی کو فارغ نہیں کر سکتے۔پس میں نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیاں دین کی اشاعت کے لئے وقف کر کے رضائے الہی کے مستحق بنیں۔اس کے بعد میں ایک چھوٹی سی بات تجارت کے حصہ کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔وقف تجارت کے متعلق دفتر تحریک جدید میں سو کے قریب درخواستیں آچکی ہیں اور ان میں سے بعض لوگ گھبرا گئے ہیں سوکے اوران 637