تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 52
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم کہنے سے زیادہ ان کے گزشتہ چھ سال انہیں دھکے دے کر اس تحریک میں شامل کرنے کے لئے کافی ہیں۔اور جس کے دل میں کسی قسم کی قبض ہوگی ، اسے بھی اس کے پچھلے چھ سال تحریک کرنے کے لئے کافی ہوں گے۔اور وہ کہیں گے کہ کیا اگلے چار سالوں کی خاطر تم ہمیں بھی برباد کر نے لگے ہو؟ وہ چھ سال اسے کہیں گے کہ تمہارے لئے رکنے کا موقع تھا پہلا سال تمہارے لئے رکنے کا موقع تھا دوسرا سال تمہارے لئے رکنے کا موقع تھا تیسرا سال تمہارے لئے رکنے کا موقع تھا چوتھا سال تمہارے لئے رکنے کا موقع تھا پانچواں سال مگر جب تم پانچویں سال میں آئے تو تم نے نصف منزل میں اپنا قدم رکھ دیا اور جب چھٹے میں شامل ہوئے تو تم اس منزل کے دوسرے نصف میں داخل ہو گئے۔اب تمہارے لئے رکنے کا کون سا موقع ہے؟ اور اگر رکو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اگلے چار سال کی خاطر ہمیں بھی برباد کرنا چاہتے ہو۔تو مجھ سے زیادہ ان کے پچھلے سال انہیں تحریک کرنے کے لئے کافی ہیں۔اس لئے وہ بھی اس بات کے زیادہ محتاج نہیں کہ انہیں اس کی تحریک کی جائے۔البتہ ایک گروہ ایسا ہے جو تحریک کا محتاج ہے اور اس گروہ میں وہ بچے شامل ہیں جو پہلے نابالغ تھے مگر اب بلوغت کو پہنچ گئے ہیں ، وہ طالب علم شامل ہیں جو پہلے برسرکار نہیں تھے مگر اب تعلیم ختم کر کے کہیں ملازم ہو چکے یا کوئی اور کام شروع کر چکے ہیں یا وہ لوگ شامل ہیں جن کے پاس پہلے مال نہیں تھا مگر اب خدا نے انہیں مال دے دیا ہے یا وہ لوگ شامل ہیں جو پہلے مقروض ہونے کی وجہ سے اس تحریک میں حصہ نہیں لے سکے مگر اب قرض اتار چکے اور اس قابل ہو چکے ہیں کہ اس تحریک میں حصہ لے سکیں یا وہ لوگ ہیں جو پہلے احمدی نہ تھے مگر اب احمدی ہو گئے ہیں۔غرض اس قسم کے لوگ جو پہلے معذور تھے مگر اب ان کی معذوری دور ہو چکی ہے یا پہلے بے سامان تھے مگر اب خدا تعالیٰ نے انہیں با سامان کر دیا ہے۔صرف وہ کسی نئی تحریک کے محتاج ہیں اور میں آج انہی کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ وہ اب پچھلا سفر طے کر کے ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔اگر اس وقت وہ شامل ہو جائیں تو گزشتہ چھ سال کا بقایا انہیں ادا کرنا پڑے گا۔لیکن اگر اب بھی وہ اس میں شامل نہ ہوئے تو ان کے لئے اس میں شمولیت اور بھی کٹھن ہو جائے گی۔پس وہ آج ہی اس تحریک میں شامل ہو جائیں تا پچھلے سفر کو بھی وہ طے کر سکیں۔ورنہ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، ان کا بوجھ بڑھتا جائے گا اور پھر مجاہدین کے سفر میں ان کا شامل ہونا مشکل ہو جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب تبوک کی طرف کوچ کیا تو بعض مسلمان اس خیال سے پیچھے رہ گئے تھے کہ بعد میں تیاری کر کے لشکر سے جاملیں گے۔انہی لوگوں میں سے ایک ابو خیمہ نامی صحابی بھی تھے۔یہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے، ( بعض روایات میں ہے کہ مدینہ میں ہی تھے اور اس خیال میں 52