تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 636

خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اور کچھ روٹی کا الگ استاد ہوتا تھا۔اور چاہیے بھی اس طرح کہ جو لیکچرار ہوں ، ان کو مضامین خوب تیار کر کے دیئے جائیں اور وہ باہر جا کر وہی لیکچر دیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سلسلہ کے مقصد کے مطابق تقریریں ہوں گی۔اور ہمیں یہاں بیٹھے بیٹھے پتہ ہوگا کہ انہوں نے کیا بولنا ہے؟ اصل لیکچر وہی ہوں گے۔اس کے علاوہ اگر مقامی طور پر ضرورت ہو تو تائیدی لیکچروں کے طور پر وہ اور کسی مضمون پر بھی بول سکتے ہیں۔مضمون تیار کرنے کا طریقہ یہ ہو کہ وہ خود بھی تحقیق کریں اور دوسرے علماء بھی اس کے متعلق نوٹ لکھوائیں اور اس طرح ایک مجموعی نظر اس مضمون پر پڑ جائے۔اسی طرح ہر دورہ کے بعد ایک اور لیکچر تیار ہو جائے۔اس طرح مرکز کی نگرانی کے ماتحت سلسلہ کی آواز سارے ہندوستان میں پھیل جائے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر موجودہ صورت میں فی الحال تین چار آدمیوں کا ایک گروپ بنادیا جائے تو بھی کام چل سکتا ہے۔ان میں سے ایک عربی دان ہو، ایک انگریزی دان ہو، جو سیاسیات اور اقتصادیات کے متعلق لیکچر دے سکے۔اور ایک لیکچرار ایسا ہو، جومختلف مذہبی جماعتوں کے متعلق واقفیت رکھتا ہو۔مثلاً سکھوں کے متعلق یا بر ہمو سماجیوں کے متعلق یا مسز اینی پینٹ کی تھیو سافیکل سوسائٹی والوں کے متعلق۔اس طرح اگر ہمیں مناسب حال لیکچرار مل جائیں جو سارے ہندوستان کا دورہ کرتے پھریں۔دو، تین ماہ دورہ کریں، پھر ایک دو قادیان آکر آرام کریں اور پھر دورہ شروع کر دیں۔تو میں سمجھتا ہوں ، اگر چوبیں چھپیں لیکچرار آہستہ آہستہ تیار ہو جائیں تو اس سال میں بڑی بڑی تمام جگہوں پر تین تین، چار چار دفعہ تقریریں ہو جائیں گی۔اگر ایک جلسہ اور دوسرے جلسہ کے درمیان کا فاصلہ ایک ہفتہ رکھا جائے اور پھر چھٹیاں بھی ڈال دی جائیں تو ہر انسان چالیس لیکچر دے سکے گا۔اگر میں لیکچر بھی سمجھ لئے جائیں اور جو میں آدمی ہوں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ سال بھر میں سات سو بیس لیکچر ہو جائیں گے۔اگر سو بڑے بڑے شہروں میں لیکچر دیئے جائیں تو سات لیکچر ایک شہر میں ہو جائیں گے۔یہ کتنا عظیم الشان کام ہوگا۔سات لیکچر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کو ہر دوسرے مہینے لیکچر سننے کا موقع مل جائے گا۔اس کے لئے نظارة دعوة وتبلیغ کو چاہیے فوراً ایک ایک انگریزی دان، عربی دان ، ہندو، سکھ مذاہب سے واقفیت رکھنے والے آدمی تیار کرے۔ان کا کام یہ ہوگا کہ وہ تمام ہندوستان میں دورہ کر کے تقریریں کریں۔ان کے لئے تقاریر کا پروگرام مرکز تجویز کرے گا۔ہاں اگر ضرورت کے موقع پر وہ کوئی اور لیکچر بھی کسی جگہ دے دیں تو اس میں حرج نہیں ہوگا۔اس کے ساتھ ہی جماعت میں تحریک کی جائے کہ بڑے بڑے شہروں کی جماعتیں اپنے ہاں مشورہ کر کے ہمیں بتائیں کہ وہ کس وقت جلسہ کرانا چاہتی ہیں؟ میرے نزدیک اگر پنجاب میں جنوری، فروری اور مارچ کے 636