تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 632

خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم ہوں۔اس پر خواجہ صاحب نے کہا یہ تو سٹھ ہے۔سٹھ کے معنی کشمیری زبان میں روٹی کے ہوتے ہیں۔اور یہ لفظ پہلی دفعہ میں نے اسی وقت سنا تھا۔ان کا مطلب یہ تھا کہ کھانا تو ہے ہی نہیں ، روٹی ہے۔کیونکہ کشمیر میں چاول اصل کھانا سمجھا جاتا ہے۔اس پر وہ نو وار د صاحب کھانے میں شامل ہو گئے۔اس کے بالمقابل پنجاب کی اصل غذا روٹی ہے۔اس وجہ سے جب کسی گاؤں میں کسی زمیندار کے ہاں چاول پکے ہوں اور کوئی ملنے آجائے اور وہ اسے کھانے کی دعوت دے تو بعض دفعہ آنے والا کہتا ہے کہ میں کھانا کھا آیا ہوں تو گھر والا کہتا ہے کہ چاول ہیں، کوئی لقمہ کھالو تو وہ شامل ہو جاتا ہے اور اکثر گھر والوں سے کم کھا کر نہیں اٹھتا۔کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ یہ تو کھانا نہیں، چاول ہیں۔اس لئے ان کے کھانے سے معدہ پر کوئی خاص بوجھ نہ پڑے گا۔یہی حالت زبانوں کی ہوتی ہے۔غیر زبان ناشتہ کے طور پر تو کام دے جاتی ہے لیکن اس سے پیٹ نہیں بھرتا۔جس طرح چاول کھانے والے کا روٹی سے پیٹ نہیں بھرتا اور روٹی کھانے والے کا چاول سے نہیں بھرتا، اسی طرح ہر زبان والا جب تک اپنی زبان میں باتیں نہ سن لے اسے مزہ نہیں آتا۔تبلیغ کے معنی یہ ہیں کہ بات دل میں رچ جائے۔لیکن بات تو اسی وقت دل میں رچتی ہے، جب کہ اس کا مزہ آئے۔اور جب تک مزہ نہ آئے ، اس وقت تک بات دل میں رچے گی نہیں۔اور بات کا مزہ اسی وقت آ سکتا ہے ، جب کہ گفتگو اپنی زبان میں ہو۔اس لئے ضروری ہے کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغ وسیع کرنے کے لئے لوگوں کی زبانوں ہی میں تبلیغ کی جائے۔مگر جب تک کہ ہمیں ایسے آدمی میسر نہ آئیں، جو ان زبانوں سے واقف ہوں، اس وقت تک کم از کم اتنا تو ضرور ہونا چاہیے کہ ہم ان زبانوں میں ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کریں، جن کو کچھ لوگ وہاں کے سمجھ لیتے ہیں۔بنگال میں ہمارے مبلغ ہیں، جو بنگالی زبان جانتے ہیں۔سرحد میں ہمارے ایسے آدمی ہیں، جو پشتو میں بڑی اچھی طرح تقریر کر سکتے ہیں۔سندھ میں بھی ہیں۔لیکن گجراتی ، مرہٹی اور تامل بولنے والے لوگ ابھی ہمارے پاس نہیں۔اسی طرح اڑ یہ بولنے والے مبلغ بھی ہمارے پاس نہیں۔ہندی جاننے والے مبلغ ہمارے پاس ہیں لیکن وہ ایسی ہندی نہیں جانتے کہ ان سے تقریروں کی امید کی جاسکے۔ان علاقوں میں تبلیغ کے لئے انگریزی اور اردو ایک حد تک کام دے سکتی ہیں لیکن سب تک نہیں۔سب تک تبلیغ کے لئے ضروری ہے کہ ایسے لوگ ہوں ، جو ان زبانوں میں تقریریں کر سکتے ہوں۔اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں سارے ہندوستان میں تبلیغ کرنے کے لئے ہر زبان کو جاننے والے لوگ پیدا کرنے چاہئیں۔مگر پنجاب میں بیٹھے ہوئے ہم ان علاقوں کے آدمیوں سے واقف نہیں ہو سکتے۔اس لئے سب سے پہلے 632