تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 631
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء لیکن وہ اس کے لئے چاول کا قائم مقام نہیں ہوگی۔جیسے ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ انگ نہیں لگتی۔اسی طرح وہ اسے انگ نہیں لگتی۔وہ ان چیزوں سے فائدہ تو اٹھا لے گا لیکن چونکہ وہ ایک خاص چیز کا عادی ہوتا ہے، اس لئے وہ اسی میں حقیقی لطف اٹھا سکتا ہے، کسی دوسری چیز میں نہیں۔مثلاً وہ آدمی جو پنجابی سننے کے عادی ہوتے ہیں ، اردو کی بات اس طرح ان کے دل میں گڑتی نہیں جس طرح پنجابی ان کے دل میں گڑ جاتی ہے۔پنجاب کی جو مستورات ہمارے جلسہ سالانہ پر آتی ہیں۔ان کی ہمیشہ یہ درخواست ہوتی ہے کہ رات کے وقت جہاں جہاں وہ ہوں، وہاں کوئی پنجابی مولوی تقریر کے لئے بھیجا جائے۔اور اگر کوئی شخص جاکر انہیں پنجابی میں ڈھولے سنا دیتا ہے یا تقریر کر دیتا ہے تو کہتی ہیں ، اب بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی ہے۔اس کے بغیر ان کا پیٹ نہیں بھرتا۔پس تمہاری زبان جاننے والا آدمی تمہاری زبان جاننے کی وجہ سے تمہاری بات تو سمجھ لے گا لیکن اس کی پوری تسلی اپنی زبان کے سوا کسی دوسری زبان میں نہیں ہوسکتی۔ایک دفعہ ہم کشمیر گئے۔وہاں خواجہ کمال الدین صاحب کے بھائی، خواجہ جمال الدین صاحب تعلیم کے انسپکٹر تھے، انہوں نے ہماری دعوت کی اور ہمارے پنجابی ہونے کی وجہ سے کھانا وہ پکایا، جو پنجاب میں پکتا ہے۔جب ہم کھانا کھا رہے تھے تو آہستہ سے دروازہ ہلا اور کسی نے اندر کی طرف جھانکا۔جب دو چار دفعہ اسی طرح ہوا تو خواجہ صاحب نے ادھر توجہ کی اور انہیں معلوم ہوا کہ ایک آنکھ جھانک رہی ہے۔وہ اٹھ کر دیکھنے گئے کہ کون جھانک رہا ہے؟ تو جس طرح کوئی بڑا آدمی آجائے تو بڑے تپاک سے ملا جاتا ہے، خواجہ صاحب بھی باہر کھڑے ہوئے شخص سے بڑے تپاک سے کہنے لگے، اندر تشریف لائیے۔پہلے تو ان صاحب نے کچھ پس و پیش کیا لیکن پھر مان گئے اور اندر آگئے ( غالباً وہ موجودہ واعظ صاحب کے بڑے بھائی تھے۔انہوں نے میرے متعلق سنا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے کوئی یہاں آیا ہوا ہے۔اس پر باوجود اس کے کہ وہ احمدی نہیں تھے، مجھے دیکھنے کے لئے آگئے۔( موجودہ میر واعظ تو ہمارے سخت مخالف ہیں لیکن ان کے بڑے بھائی کا رویہ ہمارے ساتھ اچھا تھا۔لیکن اس خوف سے کہ لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے ، انہوں نے اپنے ملازم کو پہلے اندر جھانکنے کے لئے کہا تا معلوم ہو جائے کہ غیر لوگ تو اندر نہیں بیٹھے۔ان کی خواہش تھی کہ کھڑے کھڑے بات کر کے چلے جائیں، جس سے لوگوں کو کچھ خیال نہ ہو اور وہ خیال کریں کہ شاید خواجہ جمال الدین صاحب سے کوئی بات کرنی ہوگی۔لیکن خواجہ جمال الدین صاحب کے اصرار پر انہیں اندر آنا پڑا۔جب وہ بیٹھ گئے تو خواجہ صاحب نے انہیں کہا کہ کھانا کھائیں۔انہوں نے کہا میں تو کھانا کھا آیا 631