تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 630 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 630

خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم بہت ہر جگہ کام آ جاتی ہے۔جہاں بھی چلے جاؤ، سرکاری ملازم اور پولیس کے آدمی مل جائیں گے، جو تھوڑی بہت انگریزی جانتے ہوں گے۔مگر تبلیغ میں تو لمبے اور وسیع اور بار یک مضامین بیان کرنے ہوتے ہیں۔کسی سے یہ کہہ دینا کہ مہربانی کر کے راستہ بتادو یا یہ پوچھنا کہ تمہارے پاس ڈاک خانے کے ٹکٹ ہیں یا نہیں ، یا یہ کہنا کہ میر الفافہ رجسٹری کردو؟ یہ اور چیز ہے۔لیکن کسی کے سامنے ہستی باری تعالیٰ پر مضمون پیش کرنا، ملائکہ کے وجود پر دلائل دینا، انبیاء کی آمد کے متعلق لوگوں کے سامنے معلومات رکھنا، قرآن شریف کی خوبیوں اور اس کے محاسن کو پیش کرنا ، یہ بالکل اور بات ہے۔ڈاک خانہ کا ہر با بواتنی انگریزی جانتا ہے کہ جس میں وہ بتادے کہ اس کے پاس ٹکٹیں ہیں یا نہیں ، لفافہ پر کتنے کے ٹکٹ لگانے چاہئیں، ڈاک کس وقت جاتی ہے، ایسی چھوٹی موٹی باتیں وہ انگریزی زبان میں کر سکتا ہے۔لیکن اسے انگریزی میں تبلیغ کر کے مذہب نہیں سکھایا جا سکتا۔انگریزی میں تبلیغ کر کے مذہب کی باتیں اسی شخص کو سمجھائی جاسکتی ہیں، جو انگریزی کا اچھا عالم ہو۔مثلاً گریجوایٹ ہو یا ایف۔اے ہی ہو۔لیکن وہ ایسی صحبت میں رہا ہو، جہاں انگریزی زبان بولی جاتی ہو۔اور اگر کوئی شخص انگریزی اور اردو نہ جانتا ہو تو پھر اس کی زبان میں ہی بات سمجھانی پڑے گی۔اس لئے ہندوستان کا کوئی علاقہ بھی ایسا نہیں جس کی زبان کو ہم نظر انداز کر سکیں۔ار یہ زبان بڑی زبان نہیں مگر پھر بھی چالیس، پچاس لاکھ آدمیوں کی زبان ہے۔وہاں نہ اردو میں تبلیغ کی جان سکتی ہے، نہ انگریزی میں ، نہ بنگالی میں اور نہ کسی اور زبان میں۔اگر کی جاسکتی ہے تو صرف اریہ میں۔اس علاقہ میں کچھ انگریزی جاننے والے بھی نکل آئیں گے، کچھ اور زبانیں جاننے والے بھی نکل آئیں گے لیکن بہت تھوڑے۔سارا ملک اڑیہ ہی جانتا ہوگا اور انگریزی سے بہت کم لوگوں کو مس ہو گی۔اس لئے ان کو باتیں سمجھانے کے لئے اڑیہ زبان ہی میں گفتگو کرنی ضروری ہوگی۔اسی طرح پنجاب کے شہروں میں چلے جاؤ، انگریزی میں تقریر کرو تو امرتسر میں مقبول ہو جائے گی، لاہور میں مقبول ہو جائے گی۔اسی طرح اور بڑے بڑے شہروں میں مقبول ہو جائے گی۔اردو میں تقریر کرو تو اسے بھی شہروں کے لوگ پسند کریں گے لیکن اگر گاؤں میں چلے جاؤ تو بہت سے گاؤں ایسے ہوں گے ، جہاں اردو کی تقریر کامیاب نہیں ہوگی۔سب سے زیادہ اردو سے وابستگی رکھنے والی ہماری جماعت ہے۔وہ ہمیشہ ہماری باتیں اردو میں ہی سننے کی عادی ہے۔مگر قریبا ہر جلسہ پر میرے پاس گاؤں کے رہنے والے دوست شکایت کیا کرتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی تقریر پنجابی میں بھی ہونی چاہئے تا اچھی طرح مسائل سمجھ میں آسکیں۔اردو میں تقریر وہ سمجھ تو لیتے ہیں۔مگر اسی طرح سمجھتے ہیں، جس طرح بنگالی آدمی کا معدہ روٹی بچا سکتا ہے۔وہ روٹی کو ہضم تو کر لے گا 630