تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 51
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1940ء دوسو روپے دیئے ہیں اور کسی نے پانچ سو اور فرض کرو سب کی مالی حالت یکساں تھی تو ان سب کو اس چندہ کی نسبت سے ثواب ملے گا یعنی جس نے پانچ روپے دیئے ہیں اسے جو ثواب ملے گا اس سے دو گنا ثواب دس روپے دینے والے کو ملے گا اور دس روپے دینے والے کو جو ثواب ملے گا اس سے دو گنا ثواب ہیں روپے دینے والے کو ملے گا اور میں روپے دینے والے سے بہت زیادہ ثواب سو یا دو سو یا پانچ سو روپے دینے والے کو ملے گا۔مگر وہ جو ظاہری طور پر چندہ میں حصہ نہ لینے کے باوجود اس لسٹ میں آجائیں گے جو چندہ میں حصہ لینے والوں کی خدا تعالیٰ کے حضور تیار ہوگی انہیں ان کا ثواب ان کے دکھ اور ان کے کرب کے مطابق ملے گا۔جسے دکھ کم ہو گا ، اسے اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا مثلاً پانچ روپے دینے والے کو ملے گا اور جس کے دل میں اس سے زیادہ درد ہوا ، اسے وہ ثواب ملے گا جو مثلاً دس روپے دینے والے کو ملے گا اور جس کے دل میں اس سے بھی زیادہ درد ہوا اور اسے اس غم نے نڈھال کر دیا کہ کیوں وہ اس تحریک میں شامل نہیں ہو سکا؟ اسے مثلاً پچاس یا سوروپے چندہ دینے والے کے برابر ثواب مل جائے گا۔اسی طرح بڑھتے بڑھتے جو انسان اپنے قلب میں بہت زیادہ سوزش اور جلن محسوس کرے گا اور اللہ تعالیٰ سے اس تحریک کی کامیابی کے متعلق متواتر دعائیں کرتا رہے گا خدا تعالیٰ اسے ان لوگوں میں شامل کرے گا جنہوں نے اس کے دین کے لئے اعلیٰ درجہ کی قربانیاں کیں۔تو بندوں کی لسٹ اور ہے اور خدا تعالیٰ کی لسٹ اور۔خدا تعالیٰ کی لسٹ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے عملاً اس تحریک میں کوئی حصہ نہیں لیا۔مگر ان کے دل اس درد سے بھرے ہوئے ہیں کہ کاش ان کے پاس روپیہ ہوتا اور کاش وہ بھی کچھ مالی قربانی کر سکتے۔پس ایسے لوگوں کو بھی تحریک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ نہ انہیں توفیق ہے کہ وہ اس میں حصہ لیں اور نہ ہی وہ عذر کر رہے ہیں۔تیسرا گروہ وہ ہے جو چھ سال سے با قاعدہ چندے دے رہا ہے۔اس گروہ میں شامل ہونے والوں کو بھی در حقیقت کسی خاص تحریک کی ضرورت نہیں کیونکہ چھ سال گزر چکے اور ساتواں سال شروع ہو گیا ہے۔ایسی صورت میں کوئی نادان ہی ہو گا جو کمند کو اس وقت تو ڑ دے جب دو چار ہا تھ لب بام رہ جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْ لَهَا مِنْ بَعْدِقُوَّةٍ أَنْكَانَّا کہ تم اس عورت کی طرح مت بنو جوسوت کو کات کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کرتی تھی۔اس کا مطلب یہی ہے کہ تم ایسا نہ کرو کہ ایک نیک کام شروع کر دیگر پیشتر اس کے کہ وہ ختم ہو، اسے چھوڑ دو۔پس ایسے لوگوں کو بھی میرے نزدیک چنداں تحریک کی ضرورت نہیں۔وہ پہلے اس میں شامل ہو چکے ہیں اور میرے 51