تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 620

خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم حضرت خلیفہ اول ایک ہندوستانی کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے کہ وہ حج کے لئے گیا تو اس کو کے پاس روپیہ کافی تھا لیکن اس نے بخل کی وجہ سے یا خدا تعالیٰ کا کوئی نشان دیکھنے کی غرض سے ارادہ کیا کہ میں حج کے لئے جاتے ہوئے راستے میں کماتا جاؤں گا اور اس کمائی سے حج کروں گا۔چنانچہ وہ جہاز میں سوار ہو گیا۔کچھ مدت کے بعد چونکہ جہاز میں کوئی نائی نہیں تھا۔جب لوگوں کے بال بڑے ہوئے تو انہیں پریشانی لاحق ہوئی کہ اب کیا کیا جائے؟ ایک دن انہوں نے قیچی لی اور ایک آدمی ، جو انہی کے پاس بیٹھا سر کھجلا رہا تھا، اس کے سر کے بال کاٹنے شروع کر دیئے۔ایسے سفر میں کون دیکھتا ہے کہ حجامت اچھی بنی ہے یا خراب؟ ان کا قیچی پکڑنا تھا کہ لوگوں نے انہیں نائی سمجھ کر پیسے دینے شروع کر دیئے اور ساتھ ساتھ حجامت بھی بنواتے چلے گئے۔وہ حجامتیں بناتے گئے اور پیسے جمع کرتے گئے۔تو حج کے دنوں میں محنت مزدوری کر نا منع نہیں۔کیونکہ غیر ملکوں میں جانے کے لئے روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اگر ہم نے وسیع طور پر تبلیغ کرنی ہے تو ضروری بات یہ ہے کہ ہم ایسے کام کریں، جن کے ذریعہ بغیر پیسے کے تبلیغ کر سکیں۔میں نے پچھلے خطبہ میں بتلایا تھا کہ ہندوستان کے ہزار ہا شہروں میں صرف دوسو جگہیں ایسی ہیں، جہاں احمدیہ جماعت کے ایک ایک یا دو دو تاجر پائے جاتے ہیں۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ، ایک شخص کا خط آیا ، اس نے لکھا تھا، جس علاقہ سے میں آیا ہوں ، اس میں میلوں میں تک کسی کو احمدیت کا علم بھی نہیں۔جس سے بھی ذکر کیا جائے ، وہ احمدیت سے کلی طور پر نا آشنا معلوم ہوتا ہے۔ابھی ایک عیسائی مدر اس سے مسلمان ہو کر آیا ہے۔اسے اتفاقا ایک دوست مل گئے اور اس کے ذریعہ اس کو احمدیت کا پتہ لگا۔احمدی ہونے کے بعد اس نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں ہزار ہا عیسائی ہیں اور وہ اس بات کے متلاشی ہیں کہ ان کو سچامذہب ملے۔آپ وہاں اپنا مبلغ بھیجیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کہاں مبلغ بھیجیں ؟ بعض دفعہ جماعتیں مجھے لکھتی ہیں کہ ہم نے ناظر صاحب دعوة وتبلیغ کولکھا تھا کہ مبلغ بھیجیں لیکن انہوں نے اس کی پروا نہیں کی۔میں ان کو یہی جواب دیا کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے چالیس مبلغ ہیں اور آٹھ سو ہماری منظم جماعتیں ہیں ، جن میں سے بعض جماعتوں میں ہیں ہیں تمہیں تھیں گاؤں شامل ہیں۔اس کے علاوہ وہ افراد، جو مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے ہیں، اگر ان کو بھی ملا لیا جائے تو پانچ سات ہزار جگہیں ایسی ہیں، جہاں جماعت پھیلی ہوئی ہے۔اب بتاؤ، ہم چالیس مبلغ کہاں کہاں بھجوائیں ؟ ایسے حالات میں سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اگر آپ کے اندر دین حاصل کرنے کی خواہش ہے تو اپنی جماعت کے نوجوانوں کو قادیان بھجوائیں۔ہم انہیں قرآن کریم اور حدیث وغیرہ پڑھا دیں گے اور سلسلہ 620