تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 617

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء علامات بھی پیدا ہو گئیں، جب موسیٰ علیہ السلام کے پیرو فلسطین کے چپہ چپہ زمین پر قابض ہو گئے تو ہر ایک نے کہا حضرت موسیٰ علیہ السلام سچے تھے۔جب فلسطین کے دریاؤں اور اسمعل کے پہاڑوں نے کہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا یہ ثبوت ہے کہ آپ کے پیرو ہم پر قابض ہیں تو پھر دنیا بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئی اور ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔بلکہ اب تو کروڑوں تک پہنچ چکی ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لائے تو ان کو جو دلائل خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے صداقت کے دیئے تھے، آیا وہ بہتر دلائل تھے یا وہ جو تین سو سال کے بعد روم میں پیدا کئے گئے؟ کون کہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو ان کی زندگی میں جو دلائل ملے تھے، وہ تین سو سال کے بعد بگڑے ہوئے عیسائیوں کو مل سکتے تھے؟ مگر ان روحانی دلائل سے صرف بارہ آدمی ایمان لائے۔اور ان میں سے بھی ایک نے آپ پر لعنت کی اور ایک نے یہ کیا کہ میں درہم یعنی سات روپے لے کر اپنے استاد کو یہودیوں کے پاس فروخت کر دیا۔مگر جب خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت نمائی کے ذریعہ حضرت مسیح ناصری کو دنیا میں غلبہ دینا شروع کیا تو اس غلبہ کی جسمانی علامات کو دیکھ کر کروڑوں کروڑ انسان آپ پر ایمان لے آئے۔چنانچہ اس وقت حضرت مسیح ناصری کو ماننے والے کروڑوں کروڑ انسان موجود ہیں، جنہیں حضرت مسیح ناصری کی روحانی زندگی کا کچھ علم نہیں۔جو شخص خدا تعالی کی توحید قائم کرنے آیا تھا، اگر اسے ماننے والے اس کو خدا قرار دیتے ہیں۔تو ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ اس کے مذہب کا کوئی حصہ بھی باقی رہ گیا ہے؟ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ میں رہے۔آپ نے معجزات دکھائے ، اپنی صداقت کے دلائل پیش کئے مگر کتوں نے ان معجزات اور دلائل کو دیکھ کر آپ کو مانا ؟ بعد میں سات سال تک آپ مدینے میں بھی رہے اور اپنی صداقت کے دلائل پیش کرتے رہے، منجزات بھی دکھلائے اور قرآن شریف کا اکثر حصہ آپ پر یہیں نازل ہوا۔مگر کتنی روحانی نگاہیں تھیں ، جنہوں نے آپ کو پہنچانا ؟ مگر مکہ کا فتح ہونا تھا کہ عرب کے لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے ہیں۔تو دنیا کے اکثر انسان ایسے ہوتے ہیں، جو خدا تعالیٰ کے روحانی نشانوں سے نہیں بلکہ مادی نشانوں سے ہدایت پاتے ہیں۔نشان تو وہ بھی خدائی تھا ، جس نے حضرت مسیح ناصری کو غلبہ دیا۔نشان تو وہ بھی خدائی تھا، جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو فتح دی۔نشان تو وہ بھی خدائی تھا، جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ دیا۔مگر فرق یہ ہے کہ وہ روحانی نشان تھے اور یہ مادی نشان تھے۔مادی نشان سے لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور روحانی نشانات سے کم۔617