تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 616
خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم گزشتہ خطبہ جمعہ میں اس مضمون کو تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کر سکا۔لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کو کے انکار کی ہمیں گنجائش نظر نہیں آتی۔جب ہم دنیا کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پیش کرتے ہیں تو ہم سے اختلاف رکھنے والے مسلمان سوال کرتے ہیں کہ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دنیا میں آکر اپنی جماعت کی عملی زندگی میں کیا تغیر پیدا کیا ؟ وہ ہم سے یہ سوال کرتے ہیں اور جائز طور پر کرتے ہیں کہ جہاں تک دلائل کا سوال ہے، تم خود مانتے ہو کہ مرزا صاحب قرآن شریف سے باہر کوئی چیز نہیں لائے اور تم خود مانتے ہو کہ قرآن شریف ایک زندہ کتاب ہے۔جب قرآن شریف ایک زندہ کتاب ہے اور ساری صداقتوں کی جامع ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سے باہر کوئی چیز نہیں لائے اور جو کچھ دلائل تم سناتے ہو، وہ قرآن کریم میں موجود ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہم ان کو نہیں سمجھ سکے اور تم سمجھ گئے ہو۔مگر بہر حال وہ اس میں موجود ہیں، جسے ہم اور تم مانتے ہیں تو اس سے زائد کوئی چیز مرزا صاحب کو لانی چاہیے تھی۔اور وہ یہی ہوسکتی ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ تمہاری جماعت کا ایسا تعلق ہو کہ اس تعلق کی وجہ سے تمہارے لئے وہ نتائج پیدا ہو جاتے ہوں، جو ہمارے لئے نہ ہوتے ہوں۔چنانچہ جب ہم قرآن کریم غیر قوموں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ قرآن کریم میں سچائیاں موجود ہیں، ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ہماری کتب جھوٹی ہیں یا سچائی اور جھوٹ دونوں پر مشتمل ہیں۔مگر تم یہ بتاؤ کہ اگر ہماری کتب جھوٹ اور سچائی یا ساری کی ساری جھوٹ پر مشتمل ہیں اور تمہای کتب ساری کی ساری سچائی پر مشتمل ہے تو ہمارے اندر اپنی جھوٹی کتب کے ساتھ تعلق رکھنے سے کیا خرابی پیدا ہوئی ؟ اور تمہارا قرآن کریم کے ساتھ تعلق رکھنا کون سے اچھے نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوا؟ آخر اچھی چیز کسی فائدہ کے لئے آیا کرتی ہے۔پھر تمہیں قرآن کریم سے کیا فائدہ پہنچا؟ یہ واقعی ایسا سوال ہے، جو معقول ہے اور جس کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔ہماری طرف سے اس کا روحانی جواب دیا جاتا ہے۔مگر بتاؤ دنیا میں کتنے انسان ایسے ہیں، جو روحانی نگاہ سے صداقت کو دیکھا کرتے ہیں؟ ان لوگوں کا ، جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو روحانی نگاہ سے مانا، ان لوگوں سے مقابلہ کرو، جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دنیوی نگاہ سے مانا۔روحانی نگاہ سے ماننے والے تو اتنی تھوڑی تعداد میں تھے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کہہ دیا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ اے موسیٰ جاؤ تم اور تمہارا خدا دشمن سے لڑتے پھر وہ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔مگر جب لڑائی کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم پر چلنے والوں کو فتح دی اور روحانی علامات کے علاوہ جسمانی 616