تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 615

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اکتوبر 1945ء ہمیں اس وقت تجارت کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کی ضرورت ہے خطبہ جمعہ فرموده 12 اکتوبر 1945ء سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں آج پھر گزشتہ خطبہ جمعہ کے سلسلہ میں اپنے بعض خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ دنیا میں محض صداقت کا پایا جانا اس بات کی علامت نہیں کہ دنیا میں صداقت قائم بھی ہو جائے۔صداقت کو قائم کرنے کے لئے بہت بڑی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔بعض زمانوں میں تو صداقت دنیا سے بالکل مٹ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ صداقت کو دنیا میں پہنچانے والا انسان اپنی طرف سے بھجواتا ہے۔اور بعض زمانوں میں صداقت تو موجود ہوتی ہے مگر وہ ایسی مخفی ہوتی ہے کہ اس کے دلائل لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔اور بعض زمانے ایسے آتے ہیں کہ صداقت بھی ہوتی ہے، دلائل بھی ہوتے ہیں مگر صداقت کو دنیا میں پہنچانے والے باقی نہیں رہتے۔لوگوں میں نفسی نفسی پائی جاتی۔ہے اور خدا اور اس کے سلسلہ کو لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔پھر بعض زمانے ایسے آتے ہیں کہ صداقت بھی ہوتی ہے، صداقت کے دلائل بھی ہوتے ہیں اور صداقت کو دنیا میں پہنچانے والے لوگ بھی ہوتے ہیں مگر ان میں سے قوت عملیہ جاتی رہتی ہے۔لوگ محسوس کرتے اور دیکھتے ہیں کہ ان کی زبانیں کچھ کہہ رہی ہیں لیکن ان کی نگاہیں کچھ اور کہہ رہی ہیں اور ان کے اعمال کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔اس لئے ان کے دلوں میں شبہ اور شک پیدا ہوتا ہے۔اور ان شکوک و شبہات کی وجہ سے لوگ ان کی باتوں کو قبول کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔جب تک یہ ساری چیزیں بیک وقت جمع نہ ہو جائیں اس وقت تک صداقت کو غلبہ ملنا یقینی نہیں ہوتا۔پس ہم اگر صداقت کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔اور اگر ہماری جماعت کے دلوں میں یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں زبردست دلائل عطا فرمائے ہیں تو جب تک ان دلائل کو ہم لوگوں کے سامنے پیش نہ کریں اور جب تک ان دلائل کے ساتھ ہمارے اعمال اور پھر ہمارے اعمال کے ساتھ خدا تعالیٰ کا فعل بھی شامل نہ ہو، اس وقت تک دنیا اس سے مستفیض نہیں ہوسکتی۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں اختصار کے ساتھ اس امر کی طرف اشارہ کیا تھا کہ جب کبھی دنیا میں خدا تعالیٰ کے نبی آئے ہیں تو لوگوں کی روحانی اصلاح کے ساتھ ان کی دنیوی ترقی بھی ہوئی ہے۔میں 615