تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 612

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 05 اکتوبر 1945ء ایک بھی زمیندار نہیں ملے گا۔کیونکہ نئی جگہوں پر زمین کا کام نہیں کیا جاسکتا۔ہاں نئی جگہ پر تجارت و صنعت کا کام کیا جا سکتا ہے۔یہی ہر ملک کا حال ہے۔جاپان میں چلے جاؤ، جاپان میں چھپیں ہمیں ہزار ہندوستانی کام کر رہے ہیں ، وہ سارے کے سارے تاجر ہیں، ان میں سے کوئی بھی زمیندار نہیں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ ہل جس قوم میں آجائے ، وہ ذلیل ہو گئی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زیادہ ترقی نہیں کر سکتی۔ذلیل سے مراد یہ ہے کہ دوسری قوموں کے مقابلے میں اس کی ترقی محدود ہے۔کیونکہ زمینداری ایک ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔دوسرے ملک میں نہیں جاسکتی مگر صنعت و تجارت دوسرے ملکوں میں جاسکتی ہے۔مسلمانوں کا یہودی باوجود تھوڑا ہونے کے مقابلہ کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہودیوں کے ہاتھ میں تجارت ہے۔جس کی وجہ سے ہر قوم پر اپنا اثر ڈال لیتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کے ہاتھ میں تجارت نہیں، اس لئے ان کی کوئی نہیں سنتا۔پس اس نظام تجارت کے ذریعے سے ہم نہ صرف اپنی جماعت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں اور غیر قوموں کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔ایک دفعہ محکمہ تجارت والوں نے مجھ سے پوچھا کہ بعض غیر احمدی اور ہندو ہم سے مدد چاہتے ہیں۔کیا ہم ان کی مدد کر دیں؟ میں نے ان سے کہا کہ ہاں خواہ کسی قوم سے تعلق رکھتا ہو، اس کی مدد کرنی چاہئے۔ہمارا کام تو ہے ہی یہی کہ ہم ہر قوم کی مدد کریں۔لیکن پہلے احمدیوں کے لئے کوشش کرنی چاہئے ، اس کے بعد دوسروں کے لئے۔خواہ کوئی ہندو ہو سکھ ہو، مسلمان ہو، عیسائی ہو ، ہم اس کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں ، مدد کرتے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں یہ عظیم الشان موقعہ ہے۔اس قسم کی تجارت کا موقعہ، جو شاید آئندہ بیس سال تک پیدا نہ ہو۔اس لئے جو سپاہی، افسر ڈسچارج ہوتے ہیں، ان کو چاہئے کہ اپنی زندگی مذکورہ بالا طریق پر وقف کریں۔اس رنگ میں نہیں کہ سارے کا سارا وقت دین کے لئے پیش کریں بلکہ اس رنگ میں کہ ہم نے کوئی کام کرنا ہے بجائے اس کے کہ ہم خود کام کریں تحریک جدید کی ہدایات کے ماتحت جس مقام پر ہمیں جا کر کام کرنے کے لئے کہا جائے گا اور جو کام ہمارے لئے تجویز کیا جائے گا، ہم اس جگہ جائیں گے اور اس کام کو کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔باقی مال ان کا ہوگا، کوشش ان کی ہوگی۔اخلاقی مردان کو سلسلہ دے گا اور مادی بھی ، جس حد تک توفیق ہو گی۔اگر اس رنگ میں پانچ، چھ ہزار آدمی مل جائیں اور مل جانے چاہئیں۔تو ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اگر ہم اتنے آدمی ایک سال میں کھڑے کر دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے اپنی تبلیغ کو سو گنا بڑھا دیا۔اس وقت ہمارے پچاس مبلغ ہندوستان میں کام کر رہے ہیں۔اگر پانچ ہزار نو جوان اس طرح کام کرنے لگ گئے ، جو میں نے بتایا 612