تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 608

خطبہ جمعہ فرمودہ 05اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ایسا نہیں جو سو فی صدی کامیاب ہو۔ہر جگہ کامیابی کی امید پچاس فی صدی سمجھی جاتی ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں، جو دو فی صدی امید پر اپنی جانیں دے دیتے ہیں۔پچاس فی صدی امید تو بہت بڑی چیز ہے۔ہماری تنظیم کے ماتحت میں یہ سمجھتا ہوں کہ دین اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے پانچ ہزار مبلغین کا ملنا بڑا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں پانچ ہزار سپاہی ملے تھے۔پہلی تشریح تو پانچ ہزار آدمیوں کی تحریک جدید میں شامل ہونے والوں کی ہم نے کی۔وہ چندہ دیتے ہیں اور دیتے چلے جائیں گے۔مگر یہ ایک شق بھی ہے کہ پانچ ہزار احمدی اس طرح دنیوی کام کریں کہ دین کے مبلغ بھی ہوں۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو اپنے اندر کئی شقیں رکھتی ہیں۔جہاں پانچ ہزار سے مراد ہوسکتی تھی کہ پانچ ہزار آدمی چندہ دے اور نسلاً بعد نسل پانچ ہزار آدمی متواتر چندہ دیتا چلا جائے اور قیامت تک یہ سلسلہ چلا جائے ، وہاں اس کے اور کئی معنی بھی ہیں۔اس وقت سینکڑوں آدمیوں نے فوج میں سے چندہ لکھوایا ہے۔جب وہ واپس آئیں گے تو ان کا چندہ بھی بند ہو جائے گا۔جس کو فوج میں پانچ سوروپے ملتے تھے، وہ پانچ سو چندہ دیتا تھا مگر نوکری چھوڑنے کے ساتھ پانچ کواڑ اکر اس کا چندہ صفر رہ جائے گا۔جس کو دوست نخواہ ملی تھی ، جب وہ نوکری سے علیحدہ ہو جائے گا تو نوکری کی علیحدگی کے ساتھ دو کو اڑا کر اس کا چندہ بھی صفر رہ جائے گا اور ان کی بے کاری کے ساتھ ہی تحریک جدید کے تسلسل کا جو خیال تھا، ٹوٹ جائے گا۔یہ اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ پانچ ہزار آدمی چندہ دینے والے نئے پیدا ہوں۔اور یہ نیا چندہ دینے والے اسی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں، جب پانچ ہزار آدمیوں کے لئے نیا کام مل جائے۔پس یہ جو بے کار ہو کر آنے والے آدمی ہیں، میں ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ گھر پر رہ کر فاقہ کریں، وہ تجارت کی کوشش کریں۔ایسی تجارت کی ، جو دین اسلام کے لئے بھی مفید ہو۔ہندوستان میں پانچ سو ایسے شہر ہیں جہاں تجارت کی منڈیاں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔کیونکہ ہر ایک ضلع میں آٹھ ، دس یا پندرہ ایسے قصبے ہوتے ہیں جن میں دس پندرہ ہزار سے زیادہ آبادی ہوتی ہے۔اس طرح پر اگر ان کو بھی ملا لیا جائے تو یہ بجائے پانچ سو کے دو، تین ہزار کے قریب قصبے نکل آئیں گے۔ان میں سے بعض شہر ایسے ہیں ، جیسے کلکتہ ہے، مدراس ہے، کراچی ہے، دہلی ہے، پشاور ہے، الہ آباد ہے، حیدر آباد ہے، ٹرادنکور ہے، ڈھا کہ ہے۔جہاں پر بیک وقت تمہیں تھیں، چالیس چالیس آدمیوں سے ہم تجارت کی ابتدا کر سکتے ہیں۔بعض ایسی جگہیں ہیں، جہاں صرف ایک آدمی کی شروع میں گنجائش ہو سکتی ہے۔لیکن اگر ان دو ہزار شہروں کی فی شہر اوسط دس آدمی بھی لگائی جائے تو اس کے مطابق ہیں ہزار آدمیوں کی گنجائش 608