تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 607
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 105اکتوبر 1945ء ہے کہ اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے ایسے لوگوں کے دماغوں کی ضرورت ہے، جو تنظیم کرنے کے اہل ہوں، خواہ وہ ہمارے پیشے کے نہ ہوں۔تو مرکز چاہے تجارت سے ناواقف ہو گر تنظیم بغیر مرکز کے کوئی نہیں کر سکتا۔لاہور اور دہلی کے تاجر ہمارے سارے ہندوستان کے تاجروں کی تنظیم کس طرح کر سکتے ہیں؟ ان کی سنے گا کون؟ لیکن مرکز کو یہ فضلیت حاصل ہوتی ہے اور اس کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ہرتا جرکو حکماً اس تنظیم میں شامل ہونے کو کہے اور اس حکم پر کوئی تاجر احمدی رہتے ہوئے ، اس تنظیم سے باہر نہیں رہ سکتا۔لیکن ابھی ہم جبر نہیں کرتے ، ہم اخلاص سے سب کو اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اگر جبر کرنا ہو تو کر سکتے ہیں۔لیکن لاہور، دہلی ، کلکتہ یا سکندرآباد کے تاجر جبر نہیں کر سکتے۔تو جس قدر جبر و محکم کا پہلو ہے ، وہ مرکز ہی کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور چیز کی طرف بھی میں نے توجہ دلائی تھی اور اب اس کا موقعہ ہے۔ہمارے جنگ میں تقریباً سولہ ہزار احمدی گئے ہیں، جو واپس آئیں گے۔جن کا چندہ تقریباً ایک لاکھ روپیہ ہے۔جہاں تک میرا خیال ہے۔پانچ ، چھ ہزار کے قریب ایسے ہیں، جنہیں فوج میں رکھ لیا جائے گا۔پانچ ، چھ ہزار ایسے ہیں، جو واپس آکر زمیندارہ کے کام میں لگ جائیں گے ، ان کے گھر میں کھانے پینے کو ہوگا ، وہ پسند نہیں کریں گے کہ اور کام کریں۔ان کے باپ انہیں کہیں گے کہ پانچ ، چھ سال نوکری کرلی اور کافی کماں لیا۔جتنا قرضہ تھا، اتر گیا۔تمہاری ماں تمہارے گھر میں اداس بیٹھی ہے۔تم اب یہیں رہو۔ہل پکڑو اور میرے ساتھ کام میں شامل ہو جاؤ۔پانچ ، چھ ہزار اس طرح لگ جائیں گے۔باقی پانچ چھ ہزار ایسے ہوں گے، جن کے لئے گزارے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔وہ تعلیم یافتہ تو ہوں گے لیکن گورنمنٹ کے دفاتر میں ان کو کوئی جگہ نہیں ملے گی۔زمیندار ہوں گے لیکن ان کی زمینداریاں اتنی چھوٹی ہوں گی کہ اگر وہ گھر میں آگئے تو بجائے آرام کا موجب بننے کے دوسرے بہن بھائیوں اور والدین کے لئے تکلیف کا موجب بنیں گے۔بھائی کہیں گے کہ پہلے ہمیں اگر آدھی روٹی مل جاتی تھی تو اب اس کے آجانے کی وجہ سے ایک پاؤ ملا کرے گی۔کھانے کے لئے گھر میں آ گیا ہے، کوئی کام تلاش نہیں کرتا۔اس کا گھر میں آنا محبت کا موجب نہیں ہوگا۔اس کے گھر آنے پر وہ ظاہری اسے خوش آمدید کہیں گے اور تپاک سے ملیں گے لیکن دل میں کہیں گے ، مرا بھی نہیں وہاں۔یہ حالت ان کی ہوگی۔ایسے لوگوں کی شرافت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے لئے اور کام تلاش کریں بجائے اس کے کہ گھروں میں آکر بیٹھ جائیں۔وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، جوان کے لئے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔وہ بجائے گھر میں بھو کا مرنے کے اس میدان میں مریں، جہاں دین کی خدمت بھی ہوتی چلی جائے اور ان کی اپنے مستقبل کے متعلق بھی امید بڑھتی چلی جائے۔کوئی مستقبل 607