تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 48
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 نومبر 1940ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ساتھیوں میں سے ہوں۔اب چلو میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں۔مگر ان دنوں مکہ میں اس قدر شدید مخالفت تھی کہ حضرت علی نے سمجھا اگر لوگوں نے اسے میرے ساتھ دیکھ لیا تو انہیں ضرور شبہ گزرے گا اور وہ اسے تکلیف پہنچائیں گے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ میں آگے آگے چلتا ہوں تم کچھ فاصلہ پر میرے پیچھے پیچھے رہنا۔اگر رستہ میں مجھے کوئی شدید مخالف نظر آیا تو میں کسی اور کام میں مشغول ہو جاؤں گا اور تم کسی اور کام میں مشغول ہو جانا تا اسے خیال ہی نہ آئے کہ میں تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف لے جارہا ہوں۔آخر وہ اس گھر میں پہنچے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مقیم تھے اور جو تبلیغ اسلام کا ان دنوں مرکز تھا۔ابوذر نے اپنے آنے کا سارا قصہ بیان کیا اور کہا کہ آپ اپنا دعوئی بتائیں ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مختصر اپنا دعوی بیان کیا اور قرآن کریم کی چند آیات سنائیں۔انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میری تسلی ہوگئی ہے اور یہ کہتے ہوئے وہ مسلمان ہو گئے۔پھر انہوں نے عرض کیا کہ میرے علاقہ میں کوئی بھی مسلمان نہیں ، یہاں تو پھر بھی دس ہیں مسلمان ہیں مگر وہ تو بالکل بددی ہیں انہیں جب یہ معلوم ہوگا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ ضرور شور مچائیں گے۔اس لئے اگر اجازت ہو تو کچھ عرصہ کے لئے میں اپنے اسلام کو چھپالوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اچھا اجازت ہے۔بیعت کرنے اور اسلام کو چھپانے کی اجازت لے کر وہ باہر آئے اور خانہ کعبہ کے طواف کے لئے گئے۔وہاں انہوں نے ک دیکھا کہ صحن کعبہ میں رؤسائے قریش کی ایک مجلس لگی ہوئی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بڑے بڑے تبرے اور گالیاں دی جارہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ بڑا عمند پیدا ہو گیا ہے جو کہتا ہے کہ ہمارے معبود جھوٹے ہیں۔گویا ہمارے باپ داد اسب جھوٹے تھے اور یہ شخص سچا ہے۔جب ان کے کان میں یہ آواز میں پڑیں تو باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وہ یہ اجازت لے کر آئے تھے کہ میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان نہیں کروں گا بلکہ اس بات کو چھپائے رکھوں گا تا کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔جب انہوں نے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تو ہین دیکھی تو ان کی برداشت کی طاقت جاتی رہی اور انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ : اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔کفار یہ سنتے ہی آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسی خطر ناک گستاخی ہے کہ عین اس وقت جب ہم اس کی تردید کر رہے ہیں یہ باہر کا رہنے والا ہمارے خلاف کھڑا ہو گیا اور اس نے ہمارے شہر میں فساد پیدا کرنا چاہا ہے۔اس پر کچھ نوجوان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے انہیں پکڑ کر خوب مارا وہ ابھی مارہی رہے تھے کہ حضرت عباس آگئے۔حضرت عباس ابھی اسلام نہیں لائے تھے اور ان کی عمر ابھی 48