تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 592

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 ستمبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم ہوتی ، ایسے ہی یہ نہیں ہو سکتا کہ لوگ جمع ہو کر آئیں اور وہ کہیں کہ اگر تم میں سے پانچ ہزار آدمی اپنی گردنوں پر چھری پھیر دیں تو ہم اسلام قبول کر لیں گے۔بلکہ یہ قربانیاں آہستہ آہستہ دینی پڑیں گی۔پہلے ایک دو پھر آٹھ دس پھر پندرہ ہیں، اسی طرح آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔آخر وہ دن آجاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو غلبہ عطا کرتا ہے اور کفر ہتھیار ڈال دیتا ہے اور یہ کام ایک لمبے عرصہ میں جا کر ہوتا ہے۔آج دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے حضرت خلیفہ اول ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اپنے ایک استاد کا خواب سنایا کرتے تھے۔( گو حضرت خلیفہ اول ان سے پڑھے تو نہیں تھے لیکن آپ ان کے پاس بیٹھتے اور ان سے روحانی باتیں کرتے رہتے تھے، اس لئے ان کو استاد ہی کہتے تھے۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میں شہر سے باہر گیا ہوں اور ایک کوڑھی شخص بھوپال سے باہر پل پر پڑا ہے۔اس کا جسم نہایت گندا ہے، جسم پر کھیاں بھنک رہی ہیں، آنکھوں سے اندھا ہے، دوسرے سب اعضاء شل ہیں۔میں نے اس وجود سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا میں اللہ میاں ہوں۔یہ سن کر میرا جسم کانپ گیا اور میں نے کہا تم اللہ میاں کیسے ہو؟ تمہارا تو اپنا برا حال ہے۔تم خود کوڑھی ہو ، ہاتھ پاؤں ہلا نہیں سکتے ، آنکھوں سے تم اندھے ہو۔ہمارا خدا تو وہ ہے، جو ان تمام عیوب سے پاک ہے، اس کی طاقتیں غیر محدود ہیں۔تو اس وجود نے جواب دیا کہ میں بھو پال والوں کا اللہ ہوں یعنی بھوپال والوں کے دلوں میر ا تصور ایسا ہی ہے۔اسی طرح آج اللہ تعالیٰ کی عظمت لوگوں کے دلوں میں باقی نہیں رہی۔اور حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فقرہ اس وقت بالکل صادق آتا ہے کہ اے خدا جس طرح تیری آسمان پر بادشاہت ہے، زمین پر بھی آوئے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین پر نہیں یا خدا تعالیٰ کا قانون قدرت آسمان پر تو چلتا ہے لیکن زمین پر نہیں چلتا۔جس طرح خدا تعالیٰ کا قانون قدرت آسمان پر چلتا ہے، اسی طرح زمین پر بھی چلتا ہے۔دنیا میں دہر یہ موجود ہیں لیکن وہ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے ماتحت چلتے ہیں۔کوئی دہر یہ یہ نہیں کر سکتا کہ زبان کی بجائے ماتھے سے چکھے یا ناک سے سونگھنے کی بجائے کسی اور عضو سے سونگھے۔تو خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تو ویسا ہی زمین پر ہے، جیسا آسمان پر ہے۔اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر لوگوں کے دلوں میں تیری ویسی ہی عظمت قائم ہو جائے ، جیسی آسمان پر ہے۔یہ مقصد ہر وقت جماعت کے سامنے رہنا چاہئے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت کو تمام دنیا کے دلوں میں قائم کرنا ہے۔اگر ساری دنیا نیک ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو جو اپنی گردنوں پر رکھ لے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہوگئی 592