تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 588
خطبہ جمعہ فرمودہ 07 ستمبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم جیسے حضرت ابو بکر نے کیا۔مگر لوگ بجائے اس کے 3/10 حصہ کو 4/10 حصہ یا 5/10 حصہ کی طرف لے جائیں۔1/10 حصہ کی قربانی کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے اور اپنے اموال کو اپنے آرام و آسائش پر یا اپنی اولادوں یا دوسری ادنی ادنی ضروریات پر خرچ کر دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ان کے مالوں میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔جب ہماری جماعت میں سے بعض افراد کا یہ حال ہے، جو دن رات اللہ تعالیٰ کے نشانات کا مشاہدہ کرتی ہے کہ وہ اپنے مالوں میں سے 1/10 حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں۔تو باقی قو میں، جو اللہ تعالیٰ سے بالکل بریگانہ ہیں، ان کے متعلق تم خود ہی قیاس کرلو کہ وہ کس قدر اللہ تعالیٰ کے لئے قربانی کرتی ہوں گی؟ تو اللہ اکبر کا خانہ خالی پڑا ہے۔اور وہ کام جو ہم نے کرنا ہے، بہت دور ہے۔پہلے دنیا میں اللہ اکبر کا اعلان کیا جاتا ہے۔پھر اس کے بعد اشهد ان لا الہ الا اللہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔پھر اشھدان محمدرسول اللہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔پھر حی علی الصلوۃ کا اعلان کیا جاتا ہے۔پھر حی علی الفلاح کا اعلان کیا جاتا ہے۔اس کے بعد پھر اقامت پر قد قامت الصلوة کا اعلان کیا جاتا ہے۔اقامت صلوۃ ہونے کے بعد دنیا ایک نیا پروگرام بناتی ہے اور توحید کے حقیقی معنی سیکھتی ہے۔صرف تکبیر بیان کرنے میں اور کامل توحید میں بہت بڑا فرق ہے۔تکبیر سے صرف اللہ تعالیٰ کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔لیکن تو حید کامل انسان کے تمام اعمال پر اثر انداز ہو کر اسے ادنیٰ مقام سے اعلیٰ مقام تک لے جاتی ہے اور اس کی قوتوں میں ایک نئی تبدیلی پیدا کر دیتی ہے۔کامل توحید کی آگے کئی شاخیں ہیں۔لیکن جب تک دنیا اشهد ان لا اله الا اللہ پر قائم نہ ہو جائے ، جب تک اشهدان محمد رسول اللہ پر قائم نہ ہو جائے ، جب تک حى على الصلوۃ پر عمل نہ کیا جائے ، جب تک حی علی الفلاح اپنی پوری شان نہ دکھائے، جب تک اسلام کے سارے احکام کا پورے طور پر قیام نہ ہو جائے ، اس وقت تک اقامت صلوۃ نہیں ہو سکتی۔جماعت کا فرض ہے کہ وہ اقامت صلوۃ کے لئے پورے طور پر کوشش کرے۔لیکن ہم تو ابھی تک اللہ اکبر کا پروگرام بھی پورا نہیں کر سکے۔اگر ہم اسی جدو جہد پر ٹھہر جائیں تو ہماری مثال اس شیر گدوانے والے جیسی ہوگی کہ جب اسے دو چار سوئیاں چبھتیں تو وہ کہتا ، اس عضو کو چھوڑ و آگے چلو۔آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور کہا کہ اب تو شیر کا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ہماری جماعت کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسے ابھی قربانیوں کے میدان میں صرف سوئیاں چھنے لگی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔میں تمہارے پاس کوئی جنتر منترلے کر نہیں آیا کہ تمہیں بغیر کسی تکلیف کے کامیابی حاصل ہو جائے۔بلکہ تمہیں وہ ساری قربانیاں کرنی ہوں گی، جو پہلی 588