تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 587

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 1945ء اس کی آواز کے پیچھے چل پڑے گا۔لیکن اس کے مقابل پر تم مجھے ایک گاؤں ہی بتا دو ، جہاں اللہ تعالی کی و آواز کی لوگ پوری طرح پیروی کرتے ہوں۔تم ٹرومین کو بھی چھوڑ دو، تم سٹالن کو بھی چھوڑ دو، تم انیلے اور میکا ڈو کو بھی جانے دو۔تم مجھے اللہ تعالی کی آواز کی اتنی وقعت ہی دکھا دو، جتنی وائسرائے ہند لارڈ ویول کی آواز کی یا جتنی سرکیسی کی آواز کی یا جتنی ملک خضر حیات خان کی آواز کی وقعت سمجھی جاتی ہے۔تم ان بڑے آدمیوں کو بھی چھوڑ دو تم مجھے خدا کی آواز کی اتنی وقعت ہی بتا دوں جتنی چوہڑوں کے پہنچ کی آواز کو دی جاتی ہے۔چوہڑے اس کی آواز پر سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔لیکن آج بندے خدا کی آواز کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔کیا ہمارے لئے شرم کی بات نہیں کہ جب دنیا اللہ تعالیٰ سے بیگانہ ہے اور جب دنیا کے دلوں میں اللہ تعالی کی آواز کی کوئی بھی وقعت نہیں رہی، اس وقت ہم اپنے آرام کی فکر کریں اور اس اہم کام کی طرف توجہ نہ کریں، جو ہمارے سامنے ہے؟ ہم پانچ وقت دنیا کے سامنے ایک پروگرام پیش کرتے ہیں کہ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کی اپنے نفسوں کے مقابل میں اپنی حاجات کے مقابل میں، اپنی اولادوں کے مقابل میں، اپنے مالوں کے مقابل میں کیا نسبت قائم کرتے ہیں؟ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، اپنے مالوں پر ترجیح دیتے ہیں، اپنی اولادوں پر ترجیح دیتے ہیں تو ہم یقیناً خوش ت ہیں۔لیکن اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے نفسوں پر ، اپنے مالوں پر، اپنی اولادوں پر ترجیح نہیں دیتے تو ہمارے جیسا بد قسمت روئے زمین پر کوئی نہیں ہوسکتا اور ہمیں اپنے انجام کی فکر کرنی چاہئے۔پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوریوں کو دیکھ کر 1/3 حصہ سے زیادہ وصیت کرنے سے منع فرمایا ہے۔گویا 7/10 حصہ ہمارے لئے رکھا ہے اور 3/10 حصہ اپنے لئے۔مگر کتنے ہیں جو اس حصہ کو بھی دینے کے لئے تیار ہیں؟ ہماری جماعت وہ ہے، جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہے۔اور ایک حد تک وہ اس دعوئی کے مطابق عمل بھی کرتی ہے۔لیکن ہماری جماعت میں سے بھی تھوڑے ہیں، جو 3/10 حصہ کی قربانی کرتے ہیں۔میرے نزدیک ایسے لوگ مشکل سے دس فیصدی ہوں گے۔باقی لوگوں میں سے کچھ حصہ ایسا ہے، جو 1/10 اور 3/10 کے درمیان چکر لگاتا رہتا ہے۔اور کچھ حصہ ایسا ہے، جو 1/10 کی بھی پورے طور پر قربانی نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اپنا حصہ تھوڑا رکھا ہے۔لیکن اس تھوڑے حصے کو بھی ادا کرنے میں بعض لوگ کوتا ہی سے کام لیتے ہیں۔پھر اوپر کا حکم تو وصیت سے متعلق ہے۔اپنی زندگی میں تو انسان اپنی جائیداد ساری کی ساری بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دے سکتا ہے، اپنی زندگی توانسان اپنی جائیدادساری راہ 587