تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 47

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1940ء لوگ کرتے رہے۔آخر ان کے کانوں میں بھی انہوں نے روئی ڈال دی اور کہا کہ اس کی باتیں نہ سننا۔انہوں نے روئی ڈلوالی اور خیال کیا کہ مجھے خواہ مخواہ اس بات پر ان سے جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر جب وہ چلے گئے تو انہوں نے روئی نکال کر پھینک دی اور فیصلہ کیا کہ وہ خود تمام حالات معلوم کریں گے۔مگر اس سے انہیں اتنی بات ضرور معلوم ہوگئی کہ سارا ملکہ اس شخص کا دشمن ہے اگر میں نے کسی سے کوئی بات پوچھی تو ممکن ہے وہ غلط جواب دے۔اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں پوچھوں گا کسی سے نہیں بلکہ آپ ہی تمام حالات دریافت کروں گا۔چنانچہ وہ سارا دن چکر لگاتے رہے۔بھی پھرتے پھراتے ایک طرف نکل جاتے اور کبھی دوسری طرف اور انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ ہر انسان ڈرتا ہے آپ کا ذکر کرنے سے اور ہر انسان گھبراتا ہے آپ کا نام زبان پر لانے سے۔خانہ کعبہ میں آنا تو آپ کے لئے ممنوع تھا ہی۔اس لئے یہ صورت بھی نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ خانہ کعبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کبھی دیکھ لیں۔حضرت علی جو ابھی چھوٹے بچے ہی تھے اور جن کی تیرہ سال کی عمر تھی۔انہوں نے جو بار بار آپ کو ادھر ادھر پھرتے دیکھا تو انہیں تعجب سا ہوا کہ اسے کوئی کام نہیں جو یو نہی بازار میں پھر رہا ہے؟ چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ آپ کیوں پھر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں مکہ میں ایک کام کے لئے آیا ہوں۔عربوں میں مہمان نوازی کا وصف خاص طور پر پایا جاتا ہے ، حضرت علی یہ سنتے ہی انہیں اپنے گھر لے گئے۔یوں وہ خود تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس رہتے تھے مگر یا اس وقت وہ انہیں اپنے رلے گئے یا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر ان کی رہائش بعد میں شروع ہوئی ہے، بہر حال بعض روایات میں ہے کہ وہ انہیں گھر لے گئے ، کھانا کھلایا، دوسرے دن انہوں نے پھر چکر کاٹنے شروع کر دیئے۔حضرت علی نے پھر ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ آپ یہاں کس طرح پھر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ابھی کام نہیں ہوا اس لئے ادھر ادھر پھر رہا ہوں۔خیر حضرت علی پھر شام کو انہیں اپنے ہمراہ لے گئے اور کھانا کھلایا۔تیسرے دن انہوں نے پھر دیکھا کہ وہ بدستور ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔آخر حضرت علیؓ نے ان سے کہا کہ میں آپ کا میزبان رہا ہوں اور میزبان کا بھی مہمان پر کسی قدر حق ہوتا ہے۔آپ بتا ئیں آپ کو یہاں کیا کام ہے اور آپ کیوں ادھر ادھر پھر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا: بات تو مخفی ہے مگر آپ پر اعتبار کر کے بتا دیتا ہوں کہ میں نے سنا ہے یہاں کوئی شخص ہے جس نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لوگ اسے پاگل کہتے ہیں، میرے دل میں یہ بات سنتے ہی خیال آیا کہ جب تک اس بات کی تصدیق نہ کر لی جائے کہ وہ پاگل ہے یا نہیں ہے۔اس وقت تک اسے جھوٹا کہنا جائز نہیں ! اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میری اس سے ملاقات ہو جائے۔حضرت علی نے کہا کہ تم نے پہلے دن ہی یہ کیوں نہ بتا دیا ؟ میں تو انہی کے 47