تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 579

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود 240 اگست 1945ء پیٹ سے باہر آنا ، ایک غیر معمولی حادثہ سمجھا جاتا ہے۔گو جوان آدمی کی طاقتوں اور بچے کی طاقتوں میں بہت کا بڑا فرق ہوتا ہے اور جوان اور بچے کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔بچہ ایک انگلی بھی نہیں ہلا سکتا اور جوان آدمی پہاڑ بھی کاٹ سکتا ہے۔پس گو یہ ایک بہت بڑا فرق ہے لیکن بچپن سے جوانی کی طرف جانا نسبتا ایک سہل اور نرم راستہ پر چلنے کے مترادف ہے، جو یکساں طور پر چلتا چلا جاتا ہے۔مگر بچے کا پیدائش کے ذریعہ اس دنیا کی زندگی میں آنا، ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے، اس کے لئے یہ دنیا نئی ہوتی ہے، یہ منزل نئی ہوتی ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے، جیسے انسان دنیا میں مشکل سے مشکل حالات میں سے گزرتا ہے لیکن ان سے اتنا خائف نہیں ہوتا ، جتنا موت سے ڈرتا ہے۔حالانکہ موت بھی تو ایک تبدیلی کا نام ہے۔انسان کی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ اس دنیا سے دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے۔لیکن موت سے ہر انسان خائف ہوتا ہے۔اور اس لئے خائف ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے مقام کی طرف جارہا ہوتا ہے، جس کے متعلق اسے کچھ علم نہیں ہوتا۔اس لئے اسے یہ تبدیلی ہیبت ناک معلوم ہوتی ہے۔بہر حال جس طرح استقرار حمل ایک نئی تبدیلی ہے، جس طرح بچے کی پیدائش ایک نئی تبدیلی ہے ، اسی طرح موت کے بعد انسان کا اس دنیا سے دوسری دنیا میں چلے جانا بھی ایک نئی تبدیلی ہے۔اور یہ تینوں مرحلے ہر قوم کو پیش آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا الہام بطور استقرار حمل کے ہوتا ہے۔جس طرح حمل کا استقرار کسی انسان کے اختیار میں ہے نہیں ہوتا ، اسی طرح الہام کا نازل ہونا کسی بندے کے اختیار میں نہیں ہوتا۔جب اللہ تعالیٰ کا الہام آتا ہے تو دنیا میں بڑے بڑے تغیرات کا موجب بنتا ہے۔گمنام اور غیر معروف قوم الہام الہی پر ایمان لانے کی وجہ سے غیر معمولی طور پر اپنا وجود ظاہر کرتی ہے۔اور اپنی پیدائش کے وقت تمام دنیا سے اپنے وجود کا اقرار کرا لیتی ہے۔غرض استقرار حمل سے وجود قائم ہوتا ہے اور پیدائش سے وہ وجود دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں یہ بیس سال کا عرصہ ہمارے لئے اہم ترین زمانہ ہے۔کئی ہم میں سے ایسے ہوں گے، جو اس میں سال کے عرصہ میں دنیا سے گزر جائیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا گزر جانا کوئی نئی چیز ہے؟ کیا پہلی قوموں میں سے لوگ مرتے نہیں رہے؟ کیا کسی ترقی کرنے والی قوم یا کسی قربانی کرنے والے انسان نے کبھی کہا ہے کہ ہماری زندگی میں یہ کام ہو گیا تو ہم اسے کر دیں گے اور اگر ہماری زندگی میں نہ ہوا تو ہم نہیں کریں گے؟ صرف مردہ دل لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ پہلے ہمیں انجام دکھاؤ، پھر ہم قدم اٹھائیں گے۔زندہ قومیں یا زندہ افراد اس بات کو دل میں بھی نہیں لاتے۔وہ کہتے ہیں ہم اس کام کو شروع کرتے ہیں، اگر ہم مر گئے تو دوسرے لوگ ہماری جگہ سنبھال لیں گے اور اس کام کو جاری رکھیں گے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کی بنیاد قائم کرنا ہی ہمارے لئے عزت کا موجب ہے۔مثلاً شاہ جہان نے 579