تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 571

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود و 22 جون 1945ء اللہ تعالیٰ کے نشانات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قربانیوں میں آگے بڑھو وو خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جون 1945ء میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ بے شک جماعت مالی قربانی کر رہی ہے مگر جہاں تک تحریک جدید کا تعلق ہے، اس میں جماعت نے ستی سے کام لیا ہے۔اب بھی باوجود میرے خطبہ کے جماعت میں شائع ہونے کے جماعت میں سستی کے آثار نظر آتے ہیں۔سات مہینے تحریک جدید کے گیارھویں سال پر گزر چکے ہیں لیکن ابھی چالیس فیصدی چندہ بھی وصول نہیں ہوا۔میں سمجھتا ہوں اس میں زیادہ تر جماعت کی سستی نہیں۔کیونکہ انجمن کے چندے با قاعدہ وصول ہورہے ہیں۔اس میں زیادہ تر غفلت تحریک جدید کے دفتر کی ہے۔اگر لوگوں کے اخلاص اور ان کی قربانی میں کمی آجاتی تو چاہئے تھا کہ دوسرے چندوں میں بھی کمی آجاتی۔لیکن صدر انجمن احمدیہ کے چندوں میں کمی نہیں آئی بلکہ زیادتی ہو رہی ہے۔ایک دو ہفتوں میں مجھے کی نظر آئی تھی مگر انہوں نے ثابت کیا ہے کہ بعد کے ہفتوں میں یہ کمی پوری ہو کر پہلے سے بھی زیادہ چندہ وصول ہو گیا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ یا تو جو میں نے کہا تھا کہ ہر انجمن میں اس غرض کے لئے ایک سیکرٹری تحریک جدید ہونا چاہئے ، دفتر نے اس نشہ میں کہ میرے خطبات کی وجہ سے جماعت میں ایک عام بیداری پیدا تھی ، جماعتوں میں سیکرٹریوں کے مقرر کرنے میں کوتاہی سے کام لیا ہے اور یا پھر جو سیکرٹری مقرر ہیں، وہ سست ہیں۔دفتر نے ان کی نگرانی نہیں کی اور ان کو ہوشیار اور بیدار کرنے کے لئے کوئی جد جہد نہیں کی۔بجائے اس کے کہ وہ سیکرٹریوں کو چست کرتے ، وہ ہمیشہ اخبار میں یہ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ سابقون الاولون میں شامل ہونے کا وقت آگیا۔یہ ایک فقرہ ہے، جو انہوں نے سیکھا ہوا ہے اور اسی ایک فقرہ کو وہ بار باردہراتے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ کوئی ایک فقرہ خواہ کتنا ہی بیدار کرنے والا ہو، ہمیشہ کے لئے کام نہیں آسکتا۔تیز سے تیز چھری بھی کچھ دیر چلنے کے بعد کند ہو جاتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اسے تیز کیا جائے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرما یا کرتے تھے کہ بھوپال میں ایک بزرگ تھے، جن سے میں عموماً ملنے کے لئے جاتا رہتا تھا۔ایک دفعہ کچھ دیر کے بعد ملا تو آپ نے فرمایا۔میاں کبھی قصاب کی دکان 571