تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 44
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم چاہئیں۔ساتھ ہی ضمنی طور پر میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلا چکا ہوں کہ ان چندوں میں زیادہ جوش سے حصہ لینے کا یہ تیجہ نہیں ہونا چاہئے کہ جلسہ سالانہ پر آنے میں لوگ ستی سے کام لیں۔ہماری جماعت کا ہر قدم خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی طرف اٹھ رہا ہے اور جتنی جماعت بڑھتی چلی جاتی ہیں، اتنی ہی قادیان میں آنے والوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے بے شک یہ ایک بوجھ ہے۔مگر آخر ہم نے ہی اس بوجھ کو اٹھانا ہے اور یہی وہ بوجھ ہیں جن کے اُٹھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی برکات حاصل ہوا کرتی ہیں۔دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ہم کسی کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں تو وہ ہم پر خوش ہوتا ہے۔اسی طرح جب ہم خدا تعالیٰ کے دین کا بوجھ اُٹھائیں گے تو خدا اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی ہمارے تمام بوجھ اٹھا لے گا۔جب دنیا میں تمہارا کوئی بوجھ اٹھاتا ہے تو تم اسے مزدوری دیتے ہو پھر تم کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ تم خدا کے لئے اس کے دین کا بوجھ اٹھاؤ اور وہ تمہیں کوئی مزدوری نہ دے؟ خدا تعالیٰ اس بوجھ کے اٹھانے کی ہمیشہ اپنی جماعتوں کو مزدوری دیتا چلا آیا اور دیتا چلا جائے گا۔اور اس کی مزدوری یہی ہے کہ جب ہم اس جہان میں اس کے دین کے بوجھ کو اٹھاتے ہیں تو وہ اگلے جہان میں ہمارے بوجھ اٹھا لیتا ہے۔جہاں دائمی اور ابدی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔یہ کتنا ستا سودا ہے کہ ہم اپنی عمر کے تھیں یا چالیس سال یا پچاس یا ساٹھ سال اس کا بوجھ اُٹھا ئیں اور وہ لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں ارب سال کی زندگی میں ہمارے تمام بوجھ خود اٹھا لے۔اگر اتنے ستے سودے کی طرف بھی کسی کو توجہ نہیں ہوتی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے دل پر زنگ لگ چکا ہے۔اور اب اس کے لئے دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اور خدا ہی ہے جو اس کے اس زنگ کو دور کرے۔پس اگر کوئی شخص دین کے اس کام کے لئے بھی اپنے دل میں بشاشت نہیں پاتا تو اسے سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ وہ وضو کرے اور نفل پڑھنے کے لئے کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اے خدا! دین کے کاموں کے متعلق میرے دل میں بشاشت پیدا نہیں ہوتی اور نہ دین کا بوجھ اٹھانے کی مجھے توفیق ملتی ہے، تو اپنے فضل سے میرے دل میں دین کے کاموں کے لئے رغبت پیدا کر اور مجھے ان بوجھوں کو اٹھانے کی توفیق عطا فرما تا کہ قیامت کے دن تو خود میرے تمام بوجھ اٹھائے۔( مطبوعه الفضل 19 نومبر 1940ء) 44