تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 548
خلاصہ خطاب فرمود: 08 مئی 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ہم ایسی حالت میں جینا بھی نہیں چاہتے۔اس وجہ سے ایک ایک دن میں اور ایک ایک فرنٹ پر 50،50 اور 60 ، 60 ہزار جرمن مارے گئے۔غرض اس شدت کے ساتھ وہ مایوسی کی حالت میں لڑے۔اب اگر مومن کہلانے والوں میں غیرت ہو تو خواہ وہ اس حد تک بھی سمجھیں کہ انہیں کوئی امید نہیں دلائی گئی کہ وہ جیتیں گے تو بھی انہیں دین کے لئے اس قدر تو قربانی کرنی چاہیے، جتنی مایوسی میں جرمنوں نے دنیا کے لئے کی۔اور دین کے لئے کم از کم اس قدر قربانیوں سے پیچھے نہ رہنا چاہیے۔مگر مومنین کے لئے خدا تعالیٰ زائد چیز بھی پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے۔تم قربانیاں کرو تمہاری قربانیاں رائیگاں نہ جائیں گی ، دین اسلام کو غلبہ حاصل ہو گا۔غرض بڑی سے بڑی قربانیاں پیش کرنے کے لئے دوسروں کے مقابلہ میں ہمارے سامنے موجبات بھی بہت زیادہ ہیں۔کیونکہ ہمارا مقصد بہت اعلیٰ ہے اور محرکات بھی بہت زیادہ ہیں۔کیونکہ جو امید ہم کو دلائی جاتی ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کا مومنین سے وعدہ ہے کہ اسلام کی خاطر جنگ کرتے ہوئے اگر تم زندہ رہو گے تو فتح یاب ہو گے اور اگر مر جاؤ گے تو جنت میں جاؤ گے۔غرض ہمارے لئے ہر حالت میں جیت ہی جیت ہے۔آج ہم سے جان کی قربانی اس طرح نہیں طلب کی جارہی ، جس طرح جنگوں میں پیش کی جاتی ہے۔مگر دین کی اشاعت کے لئے گھر بار چھوڑنے ، بال بچوں سے علیحدہ ہونے اور مسافرت کی تکلیفیں اٹھانے کا موقع تو ہے۔ہمارے سامنے بہت بڑا کام پڑا ہے اور اس کے لئے بہت کثرت سے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ابھی تک ہمیں کوئی ایسی کامیابی نہیں ہوئی، جس کے متعلق کہا جاسکے کہ پوری تیاری اور کافی کام کرنے والوں کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ کام کے لحاظ سے جتنی قربانیاں کرنے کی ہمیں ضرورت ہے اور جتنا سرمایہ جمع کرنے کی ہمیں ضرورت ہے، اس کا عشر عشیر بھی ہم نے نہیں کیا۔ایک چھوٹی سے چھوٹی تبلیغی سکیم کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ 15 لاکھ روپیہ سالانہ کا خرچ ہے۔پھر اس وقت بیسیوں ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے کہ جو کام ان کے سپرد کیا جائے ، اسے عقل اور سمجھ سے کریں اور علمیت سے ترقی دیں۔تھوڑا سا سرمایہ ہم ان کے لئے مہیا کر دیں اور وہ عقل کے ساتھ اسے بڑھا سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پانچ ہزار سپاہی ملنے کے متعلق جور و یا دکھایا گیا، اس کے پورے ہونے کی پہلی اور ادنی صورت یہ ہے کہ پانچ ہزار افراد تحریک جدید کا چندہ دینے والے ہوں، جو 19 سال تک مسلسل چندہ دیتے جائیں۔مگر یہ کوئی ایسی شاندار صورت اس رؤیا کے پورے ہونے کی نہیں۔اصل شان اس کی یہ ہے کہ پانچ ہزار احمدی مبلغ ہوں، جو ساری دنیا میں اشاعت اور حفاظت اسلام کا کام کر 548