تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 547

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خلاصہ خطاب فرمودہ 08 مئی 1945ء اس وقت ہر پہلو سے احمدی نوجوانوں کو قربانی کرنے کی ضرورت ہے حضور نے فرمایا:۔خطاب فرمودہ 08 مئی 1945ء میں احمدی نوجوانوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ حیرت انگیز تغیر خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیا ہے، جس کی بنیاد آج سے دس سال قبل میں نے تحریک جدید سے رکھی تھی۔اب ہمارے نوجوان ان جانی اور مالی قربانیوں کا بنظر غائر مطالعہ کریں، جو اس جنگ میں متحارب قوموں نے پیش کی ہیں اور کوشش کریں کہ ان کو دین کے لیے ان قوموں سے بڑھ کر قربانیاں پیش کرنے کا موقعہ ملے۔دنیا کے لئے جو قربانیاں کی جاتی ہیں، ان کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ قربانی کرنے والوں کو ان کا نتیجہ بھی حاصل ہو۔مگر خدا تعالیٰ کے ایک مامور اور نبی کے آنے پر جو لوگ اسے قبول کرتے ہیں اور قبول کرنے کے بعد دین کے لئے قربانیاں کرتے ہیں، ان کو نتیجہ پہلے سے ہی بتا دیا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب صحابہ کرام سخت مشکلات میں پھنسے ہوئے تھے ، اسلام ابتدائی حالت میں تھا، ہر طرف سے دشمن حملے کر رہا تھا، صحابہ کو خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد سنایا کہ اِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُوْنَ كَمَا تَأْ لَمُوْنَ وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ جہاں تک دکھ اور تکلیف کا سوال ہے، یہ ان (کفار) کو بھی پہنچتا ہے اور تم کو بھی۔لیکن فرماتا ہے۔تم میں اور ان میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ان کے سامنے کوئی یقینی نتیجہ نہیں۔مگر جب تم جنگ کے لئے نکلتے ہو تو تمہارے سامنے یہ یقینی نتیجہ ہوتا ہے کہ ہم ہی جیتیں گے۔گویا تمہارے دشمن مایوسی کی لڑائی لڑتے ہیں مگر تم امید کی لڑائی لڑتے ہو۔یہی فرق اس زمانہ میں ہم میں اور دنیا کے لئے لڑائی لڑنے والوں میں ہے۔جرمن لڑائی لڑے اور آخری چھ ماہ میں ان کی لڑائی نہایت مایوسی کی لڑائی تھی۔مگر جتنی جانیں اس عرصہ میں انہوں نے قربان کیں ، اتنی پہلے اس قدر عرصہ میں نہیں کیں۔لاکھوں جرمن مارے گئے۔اندازہ ہے کہ دس لاکھ کے قریب مارے گئے اور بے تحاشا جانیں دیتے رہے۔انہوں نے کہا کہ کیا ہوا ، اگر ہمیں فتح اور کامیابی نہیں ہوسکتی تو 547