تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 42

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 نومبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خیال کر لیا کہ ہمیں اکٹھی کھانے پینے کی چیزیں خرید لینی چاہیں تا کہ غلہ مہنگا نہ ہو جائے۔مگر واقعات نے بتا دیا کہ ان کے خیالات غلط ثابت ہوئے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک ہماری جماعت کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، اس وقت تک ہمیں یقین ہے کہ وہ ان خطرات کو دور رکھے گا۔اور کبھی ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دے گا جو جماعت کو تباہ و برباد کرنے والے ہوں۔اور اگر بالفرض کسی وقت ایسے خطرات پیدا ہو جائیں تو اس وقت ہمارے جمع کئے ہوئے غلے ہمارے کس کام آسکتے ہیں؟ وہ تو بہر حال دشمن کے ہی کام آئیں گے کیونکہ دشمن صرف روپیہ پر ہی نہیں غلہ پر بھی قبضہ کیا کرتا ہے۔جرمنی کے لوگ اس وقت بھو کے مر رہے ہیں اگر وہ ہندوستان پر قبضہ کر لیں تو سب سے زیادہ حرص کے ساتھ وہ غلہ پر ہی قبضہ کریں گے۔تو یہ امر بھی تو کل کے خلاف تھا۔میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ اگر جماعت نے ایسا کیا تھا تو اسے چندہ کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ رکھنی چاہئے تھی اور اس میں کوئی کمی نہیں آنے دینی چاہئے تھی۔پس وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک چندہ تحریک جدید ادا نہیں کیا۔میں انہیں خاص طور پر اس کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اب تحریک جدید کے سال ششم میں قریباً ایک مہینہ باقی ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ اپنی سستی کا ازالہ کر کے چندہ کی کمی کو پورا کریں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کریں کہ وہ ان پر فضل کرے گا اور انہیں دشمن کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑے گا۔اسی طرح میں باہر کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں۔بالخصوص تحریک جدید کے کارکنوں اور امرا اور پریذیڈنٹوں کو کہ وہ تحریک جدید کے بقائے ادا کرنے اور وعدوں کے پورا کرنے کی طرف توجہ کریں۔مجھے بعض بیرونی جماعتوں کے خطوط سے معلوم ہوا ہے کہ بعض امرا اور پریذیڈنٹ اس میں تساہل سے کام لے رہے ہیں۔انہیں اپنی اس غفلت کو دور کرنا چاہئے اور پوری تن دہی اور جانفشانی سے اس میں حصہ لینا چاہئے۔اب تحریک جدید کے چھ سال گزرنے والے ہیں اور صرف چار سال باقی رہتے ہیں۔گویا ہماری منزل نصف سے زیادہ طے ہو چکی ہے۔اس لئے اب ہماری کوششوں کی رفتار پہلے سے زیادہ تیز ہو جانی چاہئے تا کہ اگر پہلے سالوں میں ہم سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ ہمارے اچھے انجام کو دیکھ کر اسے دور کر دے۔دیکھو! حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک نصیحت آپ نے یہ بھی کی کہ: فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرة:133) 42