تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 533

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطاب فرموده 18 فروری 1945ء ساری دنیا پر نظر کر کے تبلیغ کے لئے مناسب علاقہ تلاش کریں خطاب فرمودہ 18 فروری 1945ء طلبہ و اساتذہ جامعہ احمدیہ کی جانب سے مکرم مولوی نذیر احمد صاحب مبلغ سیرالیون کے اعزاز میں دی گئی دعوت چائے کے موقعہ پر خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب عربوں میں مبعوث ہوئے تو اس وقت عربوں کے جذبات بہت دبے ہوئے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ باقی دنیا کے لوگ تو دنیا میں ترقی کے متعلق اپنا حصہ لے چکے ہیں مگر ہم محروم ہیں۔اس پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے آواز آئی تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے۔انہوں نے سمجھا، اب ترقی کرنے کا ہمارا وقت آ گیا ہے۔چنانچہ وہ دیوانہ وار اٹھ کھڑے ہوئے اور آنافا نا ساری زمین میں پھیل گئے۔مگر ہمارا یہ زمانہ، مہذب زمانہ ہے۔دنیا کے بہت بڑے حصہ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ترقی کے اعلیٰ معیار پر پہنچے ہوئے ہیں۔اور ان کے مقابلہ میں ہماری یہ حالت ہے کہ ہم دنیا کے ساز وسامان کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔ایسی صورت میں ہمارا کامیابی حاصل کرنا، ایک ایسی چیز ہے جیسا کہ ایک سخت چٹان کو کاٹ کر اس کا ذرا سا ٹکڑا علیحدہ کرنا۔اور ہم بڑی کوشش اور بڑی مدت کے بعد اس کا ایک ذرا کاٹ سکتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے ہمارے حوصلے بڑھانے کے لئے ایسے علاقے رکھ چھوڑے ہیں کہ اگر ہم ان میں تبلیغ کریں تو اتنی بڑی تعداد میں وہاں کے لوگ احمدیت میں داخل ہو سکتے ہیں۔متمدن علاقوں میں لاکھوں مبلغ جا کر ہزاروں سالوں تک کام کریں تو کچھ کامیابی ہو سکتی ہے۔مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد تو میں اپنی طاقت کھو بیٹھتی ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قوم نے ایک عرصہ کے بعد اپنی طاقت کھوئی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم نے بھی کھوئی اور ہم پر بھی یہ وقت آئے گا۔پھر دنیا کو روحانی طور پر فتح کرنا ہمارے لیے ناممکن ہو جائے گا۔جس قسم کے متمدن زمانہ میں ہم پیدا ہوئے ہیں، اس کی وجہ سے ہمارا کام اتنا مشکل ہے کہ کسی قوم کو ایسا مشکل کام پیش نہیں آیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ کے جو لوگ تبلیغ کرنے کے لئے جاتے ، وہ علوم میں ان لوگوں سے بہت اعلیٰ ہوتے تھے، جنہیں تبلیغ کرتے تھے۔مگر ہم جن لوگوں کی طرف جاتے ہیں ، وہ 533