تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 534
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطاب فرموده 18 فروری 1945ء ہمیں بہت حقیر سمجھتے ہیں۔ان حالات میں ہمارے لئے ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ ساری دنیا پر نظر کریں اور دیکھیں کہ کوئی ایسا حصہ ہے، جہاں کے لوگوں کے دلوں میں اس طرح کی آگ لگی ہوئی ہے، جیسی محمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت عرب کے لوگوں کے دلوں میں لگی ہوئی تھی۔اور پھر ان کو اپنے ساتھ ملاکر معروف اور کثیر التعداد قوم کی شکل میں دنیا کے سامنے آجا ئیں۔تب دنیا سیاسی لحاظ سے بھی ہمیں وقعت دینے لگ جائے گی۔اس وقت دنیا میں کروڑوں انسان ایسے پڑے ہیں کہ ہم انہیں تھوڑی سی کوشش سے حاصل کر سکتے ہیں۔بنگال میں کئی سال کی محنت اور کوشش کرنے کے بعد اس وقت تک چند ہزار احمدی ہوئے ہیں۔لیکن افریقہ میں تھوڑے عرصہ میں بہت تھوڑے مبلغوں کے ذریعہ ساٹھ ہزار کے قریب افراد احمدی ہو چکے ہیں۔اگر ہمارے مبلغ وہاں زیادہ ہوں تو اور بھی زیادہ کامیابی ہوسکتی ہے“۔پھر حضور نے فرمایا:۔یا درکھو، جب کوئی ایک ملک بھی ایسا پیدا ہو گیا، جس کے متعلق دنیا کو معلوم ہو گیا کہ یہاں احمدی غالب ہیں اور اس ملک کی اکثریت احمدیت میں داخل ہو چکی ہے تو پھر نقشہ ہی بدل جائے گا۔کیونکہ دنیا کو ہر ملک کی ضرورت ہے ، چھوٹے سے ملک کی بھی۔اس وقت افریقہ میں دس پندرہ کروڑ افراد کی آبادی ایسی ہے، جو ان حالات میں سے گزرہی ہے، جن میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب گز ر ہا تھا۔وہ سوکھی ہوئی لکڑیاں ہیں یا سوکھے ہوئے پتے، جنہیں دیا سلائی لگانے کی دیر ہے تا کہ وہ جل کر راکھ ہو جائیں۔ایسی راکھ ، جو دنیا کی نظر میں تو راکھ ہوگی لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں تریاق۔جونہ صرف ان لوگوں کی زندگی کا باعث ہوگا بلکہ ساری دنیا کو زندہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔دراصل خدا تعالٰی نے عین وقت پر مجھے اس طرف توجہ دلائی اور پھر خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے غیر محدود ترقی کے دروازے کھولے ہیں۔اس وقت وہاں چار مبلغ جاچکے ہیں اور چار پانچ جانے کے لئے تیار ہیں“۔پھر فرمایا:۔یا درکھنا چاہئے کہ یہ ایک ہی کھیت ہے، جو ہمارے لئے خالی پڑا ہے۔اس کے سوا دنیا میں اور کوئی کھیت خالی نہیں۔باوجود اس کے کہ یہ کھیت اس وقت تک خالی پڑا ہے ، ہمارا بھائی، جس نے دنیا کے باقی کھیتوں پر قبضہ کر رکھا ہے، یہ نہ کہے گا کہ اسے تم لے لو۔بلکہ وہ ہمارے رستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرے گا کیونکہ حضرت مسیح کی قوم ہمیں اپنے بھائی نہیں بلکہ حریف سمجھتی ہے۔وہ قدم قدم پر ہمارا مقابلہ کرے گی اور مقابلہ کر رہی ہے۔یہ مت خیال کرو کہ یہ بجر کھیت یونہی پڑے رہیں گے، ان پر قبضہ 534