تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 503

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرمود : 109 اپریل 1944ء یہ پسند کرو گے کہ تمہیں کسی دن جنت میں داخل کر دیا جائے کسی دن دور زخ میں جھونک دیا جائے۔چند دن سایہ دار درختوں میں رکھا جائے اور چند دن کڑکتی دھوپ میں ، ویران اور سنسان جنگلوں میں پھینک دیا جائے؟ تو میں یقینا سمجھتا ہوں کہ ان میں سے ہر شخص یہی کہے گا کہ میں تو جنت کی آرزو رکھتا ہوں اور اسی لئے دنیا کی مشکلات مجھے بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں باوجود اس خواہش کے، جو فطری طور پر انسان کے اندر پائی جاتی ہے، پھر بھی اکثر لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک دن تو انہیں قربانیوں کا بے انتہا جوش ہوتا ہے مگر دوسرے دن ان کی طبیعت پر مردنی چھائی ہوئی ہوتی ہے اور انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ قربانیوں میں حصہ لینا اپنے اموال کو ضائع کرنا ہے۔گویا وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کے مقابلہ میں ان سے ایسا ہی سلوک کرے کہ کسی دن ان کو جنت میں داخل کر دے اور کسی دن دور زخ کی گہرائیوں میں پھینک دے۔ایک دن ان کو سایہ دار درختوں اور ٹھنڈے اور شیریں پانیوں میں جگہ دی جائے اور دوسرے دن ان کو جلتی ریت پر لٹایا جائے۔جنت دوزخ تو ایک تصویر ہے، دنیا کے اعمال کی۔اگر ہم ایسا کرتے ہیں کہ ایک وقت تو کہتے ہیں، ہماری جان بھی قربان، ہمارا مال بھی قربان۔نماز پڑھتے ہیں تو بڑی گریہ وزاری ہے۔چندہ دیتے ہیں تو ایک ایک پیسہ دینے پر ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری روح بلندیوں میں اڑتی ہوئی آستانہ الوہیت پر سجدہ شکرانہ بجالا رہی ہے کہ اس نے اپنے فضل سے دین کی خدمت کی توفیق دی۔مگر چنددنوں کے بعد جب کوئی چندہ مانگنے کے لئے آتا ہے تو ہم کہتے ہیں، یہ کیسی مصیبت ہے کہ ہر وقت ہم سے چندہ مانگا جاتا ہے؟ اگر ہم چندے ہی دیتے رہیں تو اپنے اخراجات کا کیا انتظام کریں؟ اپنے بچوں اور اپنے عیال کا کس طرح گزارہ کریں ؟ اگر ہم اسی طرح اپنے رنگ بدلتے چلے جاتے ہیں، ایک دن سست ہوتے ہیں، دوسرے دن ہوشیار ہوتے ہیں، تیسرے دن پھر غافل ہو جاتے ہیں، چوتھے دن طاقت سے بڑھ کر چندہ دے دیتے ہیں، پانچویں دن چندہ مانگنے والوں پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔یا اگر اتنا نمایاں تغیر ہمارے اندر نہیں ہوتا تو کم سے کم یہ نظارہ ضرور نظر آتا ہے کہ ایک وقت چندے کی طرف دلی رغبت پائی جاتی ہے اور دوسرے وقت چندے کی طرف کوئی رغبت محسوس نہیں ہوتی۔ایک دن نماز پڑھتے ہیں تو خوب گریہ زاری سے کام لیتے ہیں مگر دوسرے دن نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں تو خیالات پراگندہ ہوتے ہیں۔نہ نماز کے الفاظ کی طرف توجہ ہوتی ہے، نہ اس کی روح کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ایک دن ہمارے اندر قربانیوں پر بشاشت پیدا ہوتی ہے تو دوسرے دن انقباض اور بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔اگر ہم اسی طرح اپنی زندگی بسر کر دیتے ہیں اور ساٹھ یا ستر سال کی زندگی ایک لیول پر 503