تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 489
تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از تقریر فرموده 108 اپریل 1944ء اور بھائی تھا، جس کے کام میں یہ پہلے مدددیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کا بھائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! میرا بھائی تو اب میرے لئے گویا ایک چٹی ہے۔دو، چار ماہ بعد آتا ہوں تو اسے کچھ خرچ دے جاتا ہوں۔اور یہ پہلے کام میں جو مجھے مدددیتا تھا ، اس سے محروم ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا معلوم ہے کہ اللہ تمہیں بھی رزق اس کے طفیل دیتا ہے؟ میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کو جب حضرت خلیفہ اول نے دینی علوم کی تعلیم دینی شروع کی تو ایک دن حضرت نانا جان مرحوم نے کہا کہ میرے دل پر یہ بوجھ ہے کہ یہ کھائے گا کیا؟ اسے کوئی فن بھی سکھا دیا جائے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔اس کے بڑے بھائی کو اللہ تعالیٰ اسی کے لئے تو رزق دے گا تا وہ اس کی خدمت کرے اور دین کے ثواب میں شریک ہو تو دین کے لئے بیٹوں کو وقف کرنا اہم ذمہ داری ہے۔جس میں اب تک جماعت نے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا ہوتا تو آج ناظر صاحب سے جب پوچھا گیا تھا کہ میں مبلغوں کے نام بتائیں؟ وہ کھسیانے ہو کر یہ نہ کہتے کہ میں نے سوچا نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ مبلغ ہیں ہی نہیں۔ناظر صاحب کے نام نہ پیش کرنے پر بعض لوگ ہنسے۔لیکن جن لوگوں نے خود اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کیا ، انہیں ہنے کا کیا حق ہے؟ ہاں جس نے اپنے بیٹوں میں سے کم سے کم ایک کو اچھی تعلیم دلا کر دین کے لئے وقف کر دیا اور باقی بیٹوں پر فرض کر دیا کہ وہ اسے خرچ دیں، وہ بے شک ہنسے۔مگر ایسا تو شاید سو، دوسو میں سے ایک ہوگا۔باقی سب وہ ہیں، جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کیا۔ایسے لوگوں کے لئے یہ استغفار کا موقع تھا اور انہیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔پس میں بار بار جماعت کو توجہ دلا چکا ہوں اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے بچوں کو دین کے لئے وقف کرو۔اگر کسی کے زیادہ بچے ہیں تو وہ ایک کو وقف کرے اور اس کے بھائیوں کے ذمہ لگائے کہ اسے خرچ دیتے رہیں۔اور انہیں کہے کہ یہ دین کا کام کرتا ہے، اس لئے تمہارا فرض ہے کہ اپنی آمد کا اتنا حصہ اس کو دیتے رہو۔اور پھر وہ اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اس کے لئے وقف کر سکتا ہے۔وصیت تو زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ کی جائز ہے اور یہ اسی لئے ہے کہ تا انسان چاہے تو دوسرے کاموں کے لئے بھی وقف کر سکے۔پس چاہیے کہ جائیداد کا کچھ حصہ اس رنگ میں وقف کر دیا جائے کہ جو تبلیغ کرے گا، یہا سے ملے گا۔پس وہ قربانی کرو، جو سچے مومن کے شایان شان ہے۔اور اپنے بچوں کو مدرسہ احمدیہ میں تعلیم کے لئے بھیجو بالخصوص کھاتے پیتے لوگوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔رپورٹ مجلس شوری منعقدہ 07 تا 109 اپریل 1944ء) 489