تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 488

اقتباس از تقریر فرموده 108 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم پڑھنے کے لئے آنا سلسلہ پر احسان نہیں بلکہ ان کو پڑھانا سلسلہ کا احسان ہے، ان پر اور ان کے ماں باپ پر کہ ان کے بچے بھیک مانگنے کے بجائے تعلیم پاتے ہیں۔کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میرا بچہ بھیک مانگنے کے لئے تیار تھا یا چپر اسی بننے کے لئے تیار تھا مگر میں نے اسے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرا دیا کہ وہ دین کی خدمت کر سکے؟ غرض یہ بہت بڑا حرف جماعت پر ہے کہ آج وہ تیں مبلغ بھی پیش نہیں کر سکتی۔میں نے بار بار دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو وقف کریں۔جماعت اخلاص اور جوش تو دین کے لئے بہت ظاہر کرتی ہے مگر عملی حالت جو ہے، اس سے ظاہر ہے کہ ہمارے پاس تمھیں مبلغ بھی نہیں، جن کو کام پر لگایا جا سکے۔یہ تو وہی بات ہے کہ سو گز واروں ، ایک گز نہ پھاڑوں۔میں جانتا ہوں کہ دوسری کوئی قربانی نہیں ، جس سے جماعت نے دریغ کیا ہو۔مالی لحاظ سے جماعت کی قربانیاں شاندار ہیں۔اور اگر اب بھی میں اس تیس ہزار کی منظوری دے دیتا تو مجھے یقین ہے کہ جماعت یہ بھی پورا کر دیتی۔مگر جب مصرف ہی نہیں تو میں کیوں لوں ؟ بعض مخالف کہتے ہیں کہ میں چندوں کا روپیہ کھالیتا ہوں۔مگر میں تو جب تک سلسلہ کو ضرورت نہ ہو، انجمن کو چندہ اجازت دینے کو تیار نہیں ہوں۔ہاں اگر مبلغ ہوں ، وہ باہر جائیں تو ان کے لئے اور ان کے بیوی بچوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔مگر جب ہمارے پاس مبلغ ہی نہیں ہیں تو روپیہ کی کیا ضرورت ہے؟ پس میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کافی مہلت دی ہے، اب وہ ترقی کا فیصلہ کر چکا ہے۔اب وہ شاید زیادہ مہلت نہیں دے گا۔اس لئے جماعت کو چاہیے کہ فرض شناسی سے کام کرے۔ضلعوں کے ضلعے ایسے ہیں کہ جہاں سے کسی کھاتے پیتے زمیندار، تاجر یا دوسرے ایسے لوگوں کے لڑکے، جو اپنے دو، تین یا زیادہ بچوں میں سے ایک کو بڑی آسانی سے دین کے لئے وقف کر سکتے ہیں ، احمد یہ سکول میں داخل نہیں۔میرا اندازہ ہے کہ تین ، ساڑھے تین لاکھ جماعت ہندوستان میں ہے۔عورتیں، بچے اور نا کارہ کو اگر نکال دیا جائے تو چالیس، پچاس ہزار کی تعد ادرہ جاتی ہے۔ان میں سے اگر پانچ ہزار بھی کھاتے پیتے سمجھ لئے جائیں اور وہ اپنا ایک ایک لڑکا بھی دین کے لئے پیش کریں تو پانچ ہزار مبلغ مل سکتا ہے۔ایک بچہ کو دین کے لئے وقف کرنے میں کوئی مشکل نہیں۔دوسروں کو کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے تمہیں اعلی تعلیم دلوائی یا دوسرے اچھے کاموں پر لگایا، اب یہ گویا ایک ٹیکس تمہارے ذمہ ہے کہ اپنے اس بھائی کو خرچ دیتے رہو۔اس طرح ان کے اپنے رزق میں بھی برکت ہوگی۔حضرت ابو ہریرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔حتی کہ مسجد سے نکلنا بھی بند کر دیا۔ان کا ایک 488