تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 487
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم دو اقتباس از تقریر فرموده 108 اپریل 1944ء واقف زندگی کی وجہ سے اس کے خاندان کو رزق ملے گا تقریر فرموده 108اپریل 1944 ء بر موقع مجلس شوری کئی سال ہوئے، میں نے وقف اولاد کی تحریک کی تھی۔اگر آپ لوگ اس پر توجہ کرتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔جب آپ لوگ ہنس رہے تھے کہ ناظر صاحب پھنس گئے۔تو فرشتے آسمان پر ہنسے کہ آپ لوگوں نے خود اپنے خلاف ڈگری دے دی۔کوئی ایک انسان اس ضرورت کو کبھی پورا نہیں کر سکتا۔ہر ایک پر ذمہ داری ہے اور ہر ایک اپنی ذمہ داری کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔آپ بھی جوابدہ ہیں اور میں بھی ہوں۔مگر میں نہیں بھی ہوں، اس لئے کہ میں نے اپنا ہر ایک بچہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔میاں ناصر احمد وقف ہیں اور دین کا کام کر رہے ہیں۔چھوٹا بھی وقف ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس طرح دین کے کام پر لگایا جائے؟ اس سے چھوٹا ڈا کٹر ہے، وہ امتحان پاس کر چکا ہے اور اب ٹریننگ حاصل کر رہا ہے تا سلسلہ کی خدمت کر سکے۔( اس عرصہ میں دوسرے دونوں سلسلہ کے کام پر لگے چکے ہیں۔الحمد لله) باقی چھوٹے پڑھ رہے ہیں اور وہ سب بھی دین کے لئے پڑھ رہے ہیں۔میرے تیرہ لڑ کے ہیں اور تیرہ کے تیرہ دین کے لئے وقف ہیں۔مگر آپ لوگ سوچیں کہ آپ نے کیا کیا ہے؟ دوست خوش ہیں کہ ہماری جماعت ، ایک تبلیغی جماعت ہے۔مگر ایک تبلیغی جماعت کے لئے تمیں مبلغین کا بھی پیدا نہ کر سکنا، کتنے افسوس کی بات ہے۔ہمارے ذمہ تمام دنیا میں تبلیغ کرنا ہے اور اس کام کے لئے تمہیں کیا ہمیں ہزار مبلغ بھی کافی نہیں۔کیا جوں جوں ضرورت پڑے گی ، ہر قدم پر میں ناظر سے پوچھا کروں گا کہ کون سے آدمی آپ کے پاس ہیں اور وہ اس طرح جواب میں خاموش ہو جایا کرے گا؟ یا درکھیں کہ ہر دفعہ ناظر کا خاموش ہونا، آپ کے لئے تازیانہ غیرت ہے۔مبلغ ناظر نے نہیں بلکہ آپ نے پیدا کرنے ہیں۔یہ اس کا کام نہیں بلکہ آپ کا ہے۔چاہیے کہ ہر وقت دو، تین ہزار مبلغ تیار کھڑے ہوں تا جب بھی آواز آئے ، فوراً بھیجے جاسکیں۔مگر یہ نہیں ہو سکتا ، جب تک آپ لوگ اپنے فرض کو ادا نہ کریں۔آپ لوگ سوچیں کہ کتنے کھاتے پیتے لوگ ہیں، جو اپنے بچوں کو مدرسہ احمدیہ میں پڑھاتے ہیں؟ اس سکول میں پڑھنے والے اکثر طالب علم وہ ہیں، جو اگر یہاں نہ پڑھتے تو بھیک مانگتے۔ان کا اس سکول میں 487