تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 486
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 دسمبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہوتی ہے۔سینما والوں کی غرض تو روپیہ کمانا ہے نہ کہ اخلاق سکھانا۔اور وہ روپیہ کمانے کے لئے ایسے لغو اور بے ہودہ فسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفاء جب ان میں جاتے ہیں تو ان کا مذاق بھی بگڑ جاتا ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کا بھی ، جن کو وہ سینما دیکھنے کے لئے ساتھ لے جاتے ہیں۔اور سینما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں میرا منع کرنا تو الگ رہا، اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی روح کو خود بخود اس سے بغاوت کرنی چاہیے۔اسی طرح سادہ زندگی اختیار کرنے کی تحریک ہے۔گو یہ بھی حکم نہیں بلکہ بعض حالات میں قرآن کریم کا حکم ہے کہ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدَّثُ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو انسان کے بدن پر بھی اس کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔مگر آج اسلام کے لیے قربانیوں کا زمانہ ہے اور ایسا زمانہ ہے کہ ہمیں چاہیے، اسلام کی خاطر قربانی کرنے کی غرض سے جائز خواہشات کو بھی جہاں تک چھوڑ سکیں ، چھوڑ دیں۔جب تک ایسا نہ کیا جائے ، اسلام کو ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔آج ہمیں جائز خواہشات کو بھی اسلام کے لیے ترک کر دینا چاہئے“۔" میں تو صرف بات پہنچاتا ہوں، جن کے دل میں عشق اور محبت ہے، ان کو خود بخو داس پر عمل کرنا چاہیے۔لیکن جس کے دل میں محبت اور عشق نہیں، ان کو اگر ہزار حکم بھی دیئے جائیں تو بھی وہ عمل نہیں کریں گے۔اثر تو عشق اور محبت کے نتیجہ میں ہوتا ہے، کسی کے حکم دینے یا زور دینے سے نہیں ہو سکتا۔پس جن لوگوں کے قلوب میں محبت ہے، اسلام کی خدمت کا احساس ہے ، ان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں کو سادہ بنائیں اور ایسا بنائیں کہ زیادہ سے زیادہ خدمت اسلام کرنے کے قابل ہو سکیں اور دنیا میں حقیقی مساوات قائم کرسکیں ، جس کے بغیر دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا اور جب تک حقیقی مساوات قائم نہیں ہوتی ، دنیا سے مفاسد ، تفرقے اور عیاشی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔پس جن لوگوں کے دلوں میں محبت ہے، وہ الفاظ کو نہیں دیکھتے۔یہ نہیں دیکھتے کہ کیا حکم دیا گیا ہے یا حکم نہیں دیا گیا؟ بلکہ وہ بات کی غرض و غایت کو سمجھتے اور اسے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اپنے اس اقرار کو دیکھتے ہیں، جو انہوں نے بیعت کے وقت کیا تھا“۔486 ( مطبوع الفضل 12 دسمبر 1944ء)