تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 485

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 دسمبر 1944ء وو مومن بات کی غرض وغایت کو دیکھتا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 08 دسمبر 1944ء اس کے بعد میں تحریک جدید کی طرف دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں ، جہاں اس کا ایک پہلو مالی تھا، وہاں کچھ اور قیود بھی تھیں۔مثلاً سادہ زندگی اختیار کرنا اور کھیل تماشوں وغیرہ سے اجتناب۔ا جہاں تک مجھے علم ہے ، جماعت کی اکثریت نے اس پر عمل کیا ہے۔مگر پھر بھی ایک طبقہ ایسا ہے، جس نے پورے طور پر اس پر عمل نہیں کیا۔چنانچہ تھوڑے ہی دن ہوئے، دہلی سے ایک نوجوان کا خط مجھے ملا کہ یہاں بعض نوجوان سینما جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے نہ دیکھنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جہاں تک قانون کا سوال ہے، جبڑا روکنے کا اختیار حکومت کو ہی ہو سکتا ہے، ہمیں یہ اختیار نہیں۔مگر رو کنا بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ایک روکنا محبت اور پیار کے ذریعہ ہوتا ہے۔بچے اگر ماں باپ کی بات مانتے ہیں تو محبت اور پیار کی وجہ سے ہی مانتے ہیں ورنہ کون سا ایسا قانون یا قاعدہ ہے کہ جس سے ماں باپ بچوں کو مجبور کر کے حکم منوا سکتے ہیں؟ بسا اوقات بچے جوان ہوتے ہیں، خود کماتے ہیں اور ماں باپ کی بھی پرورش کرتے ہیں مگر پھر بھی ماں باپ ان کو کوئی ہدایت کریں تو وہ اسے مانتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ اگر وہ نہ مانیں تو ماں باپ مجبور کر کے منوا سکتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ماں باپ کے ساتھ ان کا تعلق محبت اور پیار کا ہوتا ہے۔اسی طرح ہمارا نظام بھی محبت اور پیار کا ہے۔کوئی قانون ہمارے ہاتھ میں نہیں کہ جس کے ذریعہ ہم اپنے احکام منوا سکیں“۔تو مومن یہ نہیں دیکھا کرتا کہ حکم کیا ہے؟ بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ بات کی غرض وغایت کیا " ہے؟ اور پھر اس پر عمل کرتا ہے اور اس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔سینما کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی بدترین لعنت ہے۔اس نے سینکڑوں شریف گھرانے کے لوگوں کو گویا اور سینکڑوں شریف خاندانوں کی عورتوں کو ناچنے والی بنا دیا ہے۔میں ادبی رسالے وغیرہ دیکھتا رہتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ سینما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نو جوانوں کے مضامین میں ایسا تمسخر ہوتا ہے اور ان کے اخلاق اور ان کا مذاق ایسا گندا ہوتا ہے کہ حیرت 485