تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 478
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم یہ شرط نہیں تھی لیکن دوسرے دفتر والوں کے لیے یہ ضروری شرط ہے کہ پہلے سال کے لیے کم از کم اپنی ایک ماہ کی آمد کے برابر اس تحریک میں چندہ دیں اور پھر ہر سال اس میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے چلے جائیں۔تیسری بات میں ان لوگوں کے متعلق کہنا چاہتا ہوں ، جو دفتر اول میں بعد میں چندہ دے کر شامل ہوئے۔مثلاً اس تحریک کے شروع میں وہ اس لیے شامل نہ ہو سکے کہ اس وقت وہ نابالغ تھے ، ان کی عمر چودہ یا پندرہ سال کی تھی۔بعد میں جب وہ جوان ہوئے اور ان کو ملازمتیں مل گئیں تو انہوں نے پچھلے سالوں کا چندہ دے کر دفتر اول میں نام لکھوالیا یا بعض ایسے تھے، جو اس تحریک کے شروع میں بریکار تھے، بعد میں ان کو کام مل گیا اور وہ برسر روزگار ہو گئے تو انہوں نے پچھلے سالوں کا چندہ دے کر دفتر اول میں اپنا نام لکھوایا۔چونکہ انہوں نے آٹھ یا نو یا دس سالوں کا اکٹھا چندہ دینا تھا، اس لیے انہوں نے اس رعایت سے فائدہ اٹھایا کہ پہلے سالوں میں تھوڑا تھوڑا چندہ دے کر اور آخری سال میں زیادہ چندہ دے کر دفتر اول میں اپنا نام لکھوالیا۔مثلاً بعض ایسے ہیں، جو پانچ سوروپیہ یا چھ سوروپیہ ماہوار تنخواہ لیتے ہیں۔ان کو چونکہ اکٹھا چندہ دینا پڑا، اس لئے وہ پہلے سالوں میں دس یا پندرہ یا بیس روپیہ کے حساب سے چندہ دے کر اور آخری سال میں پانچ سوروپیہ چندہ دے کر دفتر اول میں شامل ہو گئے۔اب اگر گیارھویں سال میں وہ نویں سال کے برابر چندہ دیں یا بارھویں سال میں آٹھویں سال کے برابر چندہ دیں یا تیرھویں سال میں ساتویں سال کے برابر چندہ دیں تو ان کی موجودہ آمد کے لحاظ سے یہ چندہ بہت حقیر اور ان کی قربانیوں کو گرانے والی چیز ہے۔ان کو پہلے سالوں میں کم چندہ دینے کی اجازت تو اس لئے دی گئی تھی کہ انہوں نے ایک سال یا دو سال یا تین سال میں پچھلے سالوں کا چندہ اکٹھا دینا تھا۔اس لئے ان کے لئے یہ رعایت رکھی گئی تھی کہ گزشتہ تمام سالوں کا اکٹھا چندہ ادا کرنے کی وجہ سے ان پر بار تھا۔اب چونکہ وہ بار ان سے اتر چکا ہے اور واپسی کی طرف اس طرز پر لوٹنا ہے کہ گیارھویں سال کا چندہ کم از کم نویں سال کے برابر ہو تو ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنی موجودہ حیثیت کے مطابق گیارہویں سال کا چندہ دیں ، نہ کہ نویں سال کے برابر، جوان کی موجودہ حیثیت کے معیار سے بہت گری ہوئی چیز ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے اندر خدا کے فضل سے اخلاص پایا جاتا ہے۔خطبہ شائع ہوئے ابھی چار یا پانچ روز ہی ہوئے ہیں کہ جماعت نے اپنے اخلاص کا نمونہ دکھانا شروع کر دیا ہے۔میرے پاس بالعموم ایسی چٹھیاں آئی ہیں کہ خطبہ پڑھنے کے بعد پہلے ہم نے گیارہویں سال کا وعدہ نویں سال کے برابر لکھا دیا مگر دوسرے دن سخت شرم آئی کہ پیچھے کی طرف جانے کی بجائے ہم اپنا قدم خدا تعالیٰ کی راہ 478