تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 476
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1944ء پس میں اس امر کی وضاحت کئے دیتا ہوں کہ بہتر تو یہی ہے کہ 31 دسمبر تک تحریک جدید کے گیارہویں سال کے وعدے مرکز میں پہنچ جائیں لیکن اگر کوئی روک پیدا ہو جائے تو 7 فروری 1945 ء تک وعدے بھجوانے کی اجازت ہے۔اور جیسا کہ گزشتہ سالوں میں ہوا کرتا تھا ،سات فروری آخری میعاد ہے، اس کے بعد آنے والے وعدے قبول نہیں کئے جائیں گے ، سوائے کسی ایسی صورت کے کہ وعدے کرنے والے کی معذوری روز روشن کی طرح واضح ہو۔اسی طرح جن علاقوں میں اردو نہیں کبھی جاتی ، مثلاً بنگال ہے یا مدراس کا علاقہ ہے، وہاں اردو بہت کم سمجھی جاتی ہے اور ان تک بات کا جلدی پہنچنا مشکل ہوتا ہے یسے علاقوں کے لیے پہلے بھی 30 اپریل تک کی میعاد مقرر ہوتی ہے۔اب بھی ان کے لیے آخری میعاد 30 اپریل 45ء ہوگی۔وہ اپنے گیارہویں سال کے وعدے اس میعاد کے اندر اندر بھجوا دیں۔اور چونکہ جنگ کی وجہ سے ہندوستان سے باہر کی جماعتوں تک آواز پہنچنے میں دو تین ماہ کی دیر ہو جاتی ہے اور پھر دو تین ماہ تیاری پر لگ جاتے ہیں، کیونکہ بعض علاقے ایسے ہیں کہ سارے علاقے میں بات کا جلدی پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔جیسے یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ ہے۔وہ ملک ہمارے ہندوستان سے چار گنا ہے اور صرف ایک مبلغ وہاں کام کرتا ہے، جو ہر ایک جماعت تک جلدی میں پہنچ نہیں سکتا اور ان جماعتوں تک پہنچنے میں دیر لگ جاتی ہے۔اس لیے ان باتوں کی وجہ سے اور ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ، ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے لیے ہمیشہ جون کی آخری تاریخ وعدہ کی آخری میعاد مقرر ہوتی ہے۔چنانچہ اب بھی میں جون کی آخری تاریخ ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے وعدوں کی آخری میعاد مقرر کرتا ہوں۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی جماعتوں کے دسویں سال کے تحریک جدید کے وعدے جون کے چلے ہوئے ، اب نومبر کے شروع میں آ کر ہمیں ملے ہیں۔اسی طرح اب تو جاوا اور سماٹرا جاپان کے قبضہ میں ہیں اور ہمارے ساتھ ان کے تعلقات قائم نہیں۔جب تعلقات قائم تھے ، اس وقت سماٹرا اور جاوا کے وعدے بھی جلدی نہیں پہنچ سکتے تھے۔خدا تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل اور احسان ہے کہ ہندوستان میں کوئی اسلامی جماعت ایسی نہیں بلکہ کوئی غیر اسلامی مذہبی جماعت بھی ایسی نہیں ، جس کو خدا تعالیٰ نے ان اقوام سے مدددلائی ہو ، جو اس وقت اسلام کے مد مقابل ہیں بلکہ میں کہتا ہوں ، سارے ایشیاء بلکہ سارے مشرق میں کوئی ایسی مذہبی جماعت نہیں، جس کے مذہبی چندوں کی تحریک میں مغربی لوگوں نے حصہ لیا ہو۔صرف ہماری جماعت کو یہ استثنائی حیثیت حاصل ہے کہ ہمارے مذہبی چندوں کی تحریک میں ہر سال انگلستان کے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں اور امریکہ کے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں۔چنانچہ اس سال بھی امریکہ کی جماعت نے اڑھائی ہزار روپیہ کے وعدے بھجوائے ہیں۔پس وقتوں کے متعلق بھی میں نے تشریح کر دی ہے اور وعدوں کے متعلق بھی میں نے تشریح کر دی ہے۔476