تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 473
تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ یکم دسمبر 1944ء بے انتہا جوش اور بے انتہا قربانیوں کے بغیر کامیابی ممکن نہیں خطبہ جمعہ فرمودہ یکم دسمبر 1944ء و میں نے گزشتہ ایام میں دو تحریکیں جماعت کے سامنے پیش کی تھیں۔ایک تحریک قرآن کریم کے تراجم کے متعلق تھی ، جو سات مغربی زبانوں میں کئے جائیں گے یایوں کہنا چاہیے کہ کئے جارہے ہیں اور ان تراجم کی اشاعت کے اخراجات کے متعلق اور اس کے ساتھ ہی ایک ایک کتاب اسلام کے متعلق ، جو سات زبانوں میں تراجم کی جائے گی۔میں نے اس تحریک کو سات حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ایک حصہ کا بوجھ لجنہ اماءاللہ پر ڈالا تھا، ایک حصہ کی ذمہ داری قادیان اور ضلع گورداسپور میں جماعت پر ،جس میں یورپین ممالک بھی شامل ہیں، ایک حصہ کی ذمہ داری لاہور اور اس کے متعلقات پر، ایک حصہ کی ذمہ داری دہلی اور اس کے متعلقات پر، ایک حصہ کی ذمہ داری کلکتہ اور اس کے متعلقات پر، ایک حصہ کی ذمہ داری جنوبی ہند اور اس کے متعلقات پر اور ایک حصہ کی ذمہ داری صوبہ سندھ اور صوبہ سرحد اور اس کے متعلقات پر۔یہ ساری تحریک ایک لاکھ چھیانوے ہزار روپیہ کی تھی۔جہاں تک میں ان وعدوں سے اندازہ کرتا ہوں ، جو اس وقت تک دفتر میں پہنچ چکے ہیں، میرا اندازہ ہے کہ غالبا اس تحریک کی مد میں جو رقم مانگی گئی ہے، اس سے زیادہ انشاء اللہ وصولی ہو جائے گی۔کیونکہ اس وقت تک دفتر تحریک جدید میں جو وعدے آ چکے ہیں، وہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپیہ کے ہیں اور بقیہ کمی کو پورا کرنے کی ذمہ داری بھی جماعتوں کی طرف سے اٹھالی گئی ہے۔بعض حلقوں کی رقم مقرر کردہ اٹھائیس ہزار سے زائد ہے۔بعض حلقوں کی رقم قریب قریب اتنی ہے اور بعض حلقوں کی رقم میں ابھی فرق ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ، جماعتوں جن کے ذمہ حصہ مقرر کیا گیا تھا، ہر ایک نے اپنے اپنے حصہ کو پورا کرنے کا اقرار کر لیا ہے۔چونکہ وصولی میں بعض رقمیں رہ جاتی ہیں۔مثلاً بعض وعدہ کرنے والے فوت ہو جاتے ہیں، بعض وعدہ کرنے والوں کو کوئی مالی ابتلا ء پیش آ جاتا ہے یا کوئی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔اس وجہ سے اگر وصولی میں ایک دو فیصدی کا فرق پڑ جائے تو جو زائد وصولی ہوگی، اس کے ذریعہ کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔پس اگر وعدوں کی وصولی برابر رہی تو پھر اسی 473