تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 464
خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1944 ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم کل 19 ہوئے۔یہ قلیل سے قلیل تعداد مبلغین کی ہے، جس سے دنیا میں ایک حرکت پیدا کی جاسکتی ہے۔یوں تو ہر ایک ملک میں اس سے بہت زیادہ مبلغین کی ضرورت ہے۔مثلاً انگلستان ، جرمنی، فرانس وغیرہ ممالک کے لیے تین مبلغ کافی نہیں ہو سکتے۔لیکن فی الحال اگر تین تین بھی بھیجے جاسکیں تو کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ایک ان میں سے کوئی رسالہ وغیرہ نکال لے، ایک دورے وغیرہ کرتار ہے اور ایک ہیڈ کوارٹر میں رہے، کتب وغیرہ فروخت کرے اور چھوٹے پیمانہ پر کوئی لائبریری وغیرہ جاری کرلے۔یہ صرف کام شروع کرنے کے لیے ہے ورنہ تین تین مبلغین بہت تھوڑے ہیں۔قادیان ایک چھوٹی سے بستی ہے اور پندرہ میں علماء یہاں ہر وقت موجود رہتے ہیں، پھر بھی شور رہتا ہے کہ آدمی کافی نہیں ہیں۔اس لحاظ سے جن ممالک کی آبادی پانچ چھ کروڑ ہو ، وہاں تین مبلغین کی مثال ایسی بھی نہیں جیسے آٹے میں نمک کی۔ان کی حیثیت اتنی بھی نہیں جتنی جسم انسانی کے ایک بال کی جو نسبت جسم میں ہے، پانچ چھ کروڑ آبادی کے ملک میں تین مبلغین کی نسبت اتنی بھی نہیں بنتی۔اور یہ تعداد صرف اتنی ہی ہے، جو جھنڈا بلند رکھے، اس سے زیادہ نہیں۔اور پھر یہ بات بھی ہے کہ یہ مبلغ ساری عمر وہاں نہیں رہ سکتے کیونکہ ان کے بیوی بچے یہاں ہوں گے، ان سے ملنے نیز دین کی تعلیم کو تازہ کرنے کے لیے ان کو تین چار سال کے بعد واپس بلا نالازمی ہوگا۔اس لیے کم سے کم دگنی تعداد ہی کام دے سکتی ہے۔یہ حلقہ وار مبلغین کی تقسیم جو میں نے بیان کی ہے، اس کی مجموعی تعداد 106 بنتی ہے۔پس اتنے ہی مبلغ ہمیں یہاں رکھنے پڑیں گے تا تین تین یا چار چار سال کے بعد ان کا آپس میں تبادلہ ہوتا رہے۔غیر ممالک میں کام کرنے والے تین چار سال کے بعد قادیان آ جائیں اور یہاں جو ہوں ، وہ ان کی جگہ جا کر کام کریں۔ورنہ غیر ممالک میں کام کرنے والے مبلغین کی مثال ویسی ہی ہوگی ، جو اس وقت ہمارے امریکہ کے مبلغ کی ہے۔ان کو کچھ مشکلات درپیش ہیں اور وہ واپس آنا چاہتے ہیں اور وہ لکھ رہے ہیں کہ مجھے واپس آنے دیا جائے۔میں نے صدر انجمن احمدیہ سے کہا بھی ہے کہ ان کو بعض خاندانی مشکلات ہیں، ان کو واپس بلایا جائے۔مگر اس نے ابھی تک کوئی انتظام نہیں کیا۔صدرانجمن احمدیہ نے بعض نام امریکہ میں بطور مبلغ بھیجنے کے لئے میرے سامنے پیش کئے ہیں مگران میں ایک صاحب ایسے ہیں کہ جو 24 سال سے قادیان نہیں آئے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ گھر سے نکلوں تو نزلہ کی تکلیف ہو جاتی ہے۔ایک صاحب ایسے ہیں، جو اس وقت موتیا بند کی مرض میں مبتلا ہیں۔ایک ان میں سے انٹرفیس فیل یا شاید انٹرنس پاس ہیں اور اس طرح بہت سے ایسے نام میرے پیش کر دیئے گئے ہیں کہ جن کو نہ دینی تعلیم ہے اور نہ دنیاوی۔یہ نتیجہ آدمی تیار نہ کرنے کا ہوتا ہے۔464