تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 439

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 10 نومبر 1944ء زائد جو اخراجات ہوں گے ، وہ انشاء اللہ پورے ہو جائیں گے۔لیکن اگر روپیہ خدانخواستہ کم اکٹھا ہوا تو پھر یو قرآن کریم کے تراجم کو مقدم رکھا جائے گا۔اگر قرآن کریم کے تراجم اور ان کی اشاعت کے اخراجات کے بعد روپیہ بیچا تو وہ دوسری کتب کے ترجمہ اور ان کی اشاعت پر خرچ کیا جائے گا ورنہ جس قدر رو پیہ باقی بچا، اسی کے مطابق کتابیں شائع کی جائیں گی۔یعنی جس قدر زبانوں میں اس وقت ترجمہ کرایا جائے گا، جب ان کے لئے روپیہ ہمارے پاس جمع ہو گا، بہر حال مقدم قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کی اشاعت ہوگی۔اور چونکہ یہ کام اپنے اندر بہت بڑی وسعت رکھتا ہے اور ہر جماعت اپنے اپنے حلقہ کی خود نگرانی نہیں کر سکتی ، اس لئے میں ایک دفعہ پھر دفتر تحریک جدید کوتوجہ دلاتا ہوں کہ اس تحریک کی نگرانی کرنا ، اس کی کامیابی کے لئے متواتر جد و جہد کرنا، لوگوں سے چندہ وصول کرنا، ان کا با قاعدہ حساب رکھنا اور وعدہ کرنے والوں کو اپنے وعدوں کی ادائیگی کی طرف بار بار توجہ دلاتے رہنا، یہ تحریک جدید کے مرکزی کارکنوں کا فرض ہے۔صرف مقامی جماعتوں پر ہی اس کی ذمہ داری نہیں۔بے شک وہ جماعتیں بھی ذمہ دار ہوں گی کہ اس بوجھ کو اٹھا ئیں مگر مرکز اپنی نگرانی کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔میں اس موقعہ پر پھر یہ کہ دینا چاہتا ہوں کہ میری طرف سے وہ شرط برابر قائم ہے، جس کا میں ایک دفعہ پہلے بھی اعلان کر چکا ہوں کہ اگر کوئی جماعت اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتی تو وہ بیشک ہمیں اطلاع دے دے۔ہم یہ انعام اس کی بجائے کسی اور کو دے دیں گے۔لیکن اگر وہ جماعتیں خوشی سے اس بوجھ کو اٹھا لیتی ہیں تو اس کے بعد گو اصل ذمہ داری ان جماعتوں پر بھی عائد ہوگی اور ان کا یہ ذاتی فرض ہوگا کہ وہ اپنے وعدہ کو پورا کریں اور چندوں کی ادائیگی کی کوشش کریں۔لیکن مرکز اپنی ذمہ داری سے فارغ نہیں ہوگا بلکہ مرکز کی ذمہ داری ان کے ساتھ شامل ہو گی۔مرکز کو اس تحریک کے متعلق اس طرح کوشش کرنی چاہیے کہ گویا ان علاقوں پر کوئی ذمہ داری نہیں اور ان علاقوں میں رہنے والوں کو اس تحریک کے متعلق اس طرح کوشش کرنی چاہیے کہ گویا مرکز پر کوئی ذمہ داری نہیں۔یہ ذمہ داری، جو مرکز پر عائد کی جارہی ہے، میری طرف سے ہے۔جماعتوں کا یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ بعد میں یہ کہیں کہ چونکہ مرکز نے ہماری مدد نہیں کی تھی ، اس لئے ہم اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکے۔وہ اپنی اپنی جگہ اس بات کے ذمہ وار ہوں گے کہ جو اخراجات ان کے حلقہ کے سپرد کئے گئے ہیں، ان کو وہ جلد سے جلد پورا کریں، وہ اس تحریک کو اپنے علاقوں میں پھیلائیں ، لوگوں کو اس سے واقف کریں، ان سے جلد سے جلد وعدے لیں اور پھر وہ وعدے دفتر فنانشل سیکرٹری تحریک جدید میں بھجوادیں کیونکہ چندہ کی وصولی براہ راست مرکز کی طرف سے ہوگی، وصولی کرنا ان کا کام نہیں۔مگر ان کا یہ فرض ضرور ہے کہ وہ اپنے اپنے حصہ کی رقم جلد سے جلد پوری کریں، وعدے مرکز کو بھجوائیں اور پھر ان وعدوں کی ادائیگی کا فکر کریر 439