تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 431

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء پس دوحصے، جو فارغ ہوئے ہیں، ان میں سے ایک حصہ میں حلقہ لاہور کے دوستوں کو دیتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے ایک ترجمہ کا خرچ اور قرآن کریم کے ایک ترجمہ کی اشاعت اور اس کی چھپوائی کا خرچ، اسی طرح بارہ کتابوں میں سے کسی ایک کتاب کے ترجمہ کا خرچ اور کسی ایک کتاب کے ترجمہ کی اشاعت اور اس کی چھپوائی کا خرچ ، جو ستائیس ہزار روپیہ ہوگا، حلقہ لاہور برداشت کرے۔ملک عبد الرحمان صاحب قصور والوں نے ایک ترجمہ کا خرچ برداشت کرنے کے متعلق جو اطلاع دی ہوئی ہے، وہ بھی اس میں شامل ہوگی۔چونکہ ایک ترجمہ کے خرچ کا وعدہ لاہور کی جماعت کر چکی ہے اور ایک ترجمہ کے خرچ کا وعدہ ملک عبدالرحمان قصور والوں کی طرف سے ہے، اس لئے یہ دونوں رقمیں مل کر بارہ ہزار روپیہ بن گیا۔باقی صرف پندرہ ہزار روپہی رہ جاتا ہے، جو ان پانچ اضلاع کے لئے پورا کرنا کچھ مشکل نہیں ، جو حلقہ لاہور میں شامل کیے گئے ہیں۔یعنی اضلاع لاہور، فیروز پور، شیخو پورہ، گوجرانوالہ اور امرتسر۔اب میں چھٹا ضلع سیالکوٹ بھی ان کے ساتھ شامل کر دیتا ہوں۔سیالکوٹ وہ مقام ہے، جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام گزارے اس لحاظ سے سیالکوٹ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔پس میں سیالکوٹ کو بھی حلقہ لاہور میں ہی شامل کرتا ہوں تا کہ وہ اس ثواب میں شامل ہونے سے محروم نہ رہے۔دوسرا بچا ہوا حصہ میں کلکتہ والوں کو دیتا ہوں۔ان کی طرف سے بھی دو تراجم کے خرچ کو برداشت کرنے کا وعدہ آیا ہوا ہے۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے ایک ترجمہ کا خرچ اور قرآن کریم کے ایک ترجمہ کی اشاعت کا خرچ اور اسلامی کتب میں سے کسی ایک کتاب کے ترجمہ کا خرچ اور اسلامی کتب میں سے کسی ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ بحیثیت جماعت کلکتہ کے ذمہ ہوگا۔کلکتہ کی جماعت کے علاوہ جس نے ایک ترجمہ قرآن اور اس کی چھپوائی کا خرچ برداشت کرنے کا وعدہ کیا ہے، ایک اور درخواست ترجمہ قرآن کا خرچ دینے کی شیخ محمد صدیق اور شیخ محمد یوسف صاحبان کی طرف سے بھی ہے۔یہ دونوں بھائی ہیں اور اکھٹا ہی تجارت کا کام کرتے ہیں۔انہوں نے تو یہاں تک اپنے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے کہ ان کی طرف سے مجھے چٹھی آئی ہے کہ اگر آپ قرآن کریم کا ایک ترجمہ ہمیں نہیں دیتے تو کم از کم قرآن کریم کے ایک ترجمہ کی چھپوائی کا سارا خرچ ، جو پندرہ ہزار روپیہ ہے، ہمارے ذمہ ڈال دیا جائے۔اس جماعت کے ذمہ بھی ستائیس ہزار رو پیدا اکٹھا کرنا ہو گا مگر چونکہ انگلستان سے اطلاع آئی ہے کہ تراجم کا خرچ زیادہ ہوگا، اس لئے میں بجائے ستائیس ستائیس ہزار روپیہ کے اٹھائیس ہزار روپیہ فی 431