تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 430
خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہے۔انہی شہادتوں میں سے ایک یہ بھی شہادت ہے۔یعنی اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص اس جنگ میں مارا جاتا ہے تو وہ یقیناً شہید ہے۔بشرطیکہ اس کی نیت درست ہو اور وہ محض اسی ارادہ سے اس جنگ میں شامل ہوا ہو کہ مجھے اپنے امام کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا سے ظلم اور تعدی کو مٹانے اور اسلام کے راستہ سے مختلف قسم کی روکوں کو دور کرنے کے لئے اس جنگ میں شمولیت ضروری ہے۔پس وہ لوگ ، جو میرے حکم کے مطابق فوج میں بھرتی ہوئے ہیں، ان کا حق یقینا ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔اسی طرح وہ لوگ جن کو اس چندہ میں بالکل شامل نہیں کیا گیا اور انہیں اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا، ان کا اعتراض بھی وزنی ہے۔ان حالات میں میں نے غور کیا کہ کیا میں کوئی ایسی تدبیر اختیار کر سکتا ہوں، جس سے یہ تمام اعتراضات مٹ جائیں؟ آخر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ سب سے پہلے میں اپنی قربانی پیش کروں اور اس ذریعہ سے دوسرے دوستوں کے لئے اس تحریک میں شامل ہونے کا راستہ صاف کر دوں۔چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں نے جو ایک ترجمة القرآن اپنے اور اپنے خاندان کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا، میں اس ترجمہ کی رقم کو قادیان کے چندہ میں ہی جمع کرا دوں اور اپنا حق چھوڑ دوں۔میں نے جس رقم کا وعدہ کیا تھا، وہ بہر حال قائم رہے گی لیکن اب بجائے اس کے کہ وہ ترجمة القرآن میری طرف سے شائع ہو، قادیان کی جماعت کی طرف سے شائع ہوگا اور میرا چندہ بھی قادیان کے چندہ میں ہی شامل ہوگا۔لجنہ اماءاللہ کو جو حصہ حق کے طور پر مل سکتا ہے، وہ در حقیقت ایک ہی ہے۔دوسرا حصہ ان کو زائد طور پر اس امید پر دیا گیا تھا کہ وہ اس حصے کا بوجھ بھی اٹھاسکیں گی اور زائد طور پر اس قدر چندہ اکٹھا کر لیں گی۔خود لجنہ کی طرف سے اس قسم کی درخواست نہیں آئی تھی۔پس وہ دوسرا حصہ جولجنہ اماءالہ کو دیا گیا تھا، اس سے بھی میں لجنہ اماءاللہ کو فارغ کرتا ہوں۔ان دو حصوں کو فارغ کرنے کے بعد، میں نے فیصلہ کیا کہ میرے پاس اس سلسلہ میں جو دو درخواستیں آئی ہوئی ہیں، میں یہ فارغ کر دہ حصے ان میں تقسیم کر دوں۔مثلاً حلقہ لاہور کی طرف سے ہی میرے پاس دو درخواستیں آئی ہوئی ہیں۔مگر دو حصے کسی ایک حلقہ کو نہیں دئے جا سکتے کیونکہ اس طرح پھر وہی اعتراض پیدا ہو جائے گا، جو پہلی تقسیم پر کیا جا چکا ہے اور چونکہ یہ اعتراض خود دوسرے دوستوں نے ہی اٹھایا ہے، اس لئے اب دوبارہ کسی کو دو حصے دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔بہر حال حلقہ لا ہور کو ایک حصہ ہی مل سکتا ہے، دو حصے نہیں مل سکتے۔430