تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 427

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 10 نومبر 1944ء وہ ایک حد تک وزنی ہے اور میرے نزدیک وہ اس سوال کے اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ جب وہ اس کا بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہیں تو پھر جن کو زائد از حق ملا ہے، ان سے وہ حصہ انہیں واپس دلایا جائے۔ہماری جماعت کے وہ چندہ دہندگان، جو براہ راست اپنا چندہ مرکز میں بھجوایا کرتے ہیں اور جنہوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ہمیں اس تحریک میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا۔ان کا اعتراض بھی ایک حد تک وزنی ہے۔گو میں نے ایسے تمام دوستوں کو ریز رو کے طور پر رکھا ہوا تھا اور میرا منشاء یہ تھا کہ اگر چندہ میں کمی رہی یا بعض اضلاع اپنی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے سے قاصر رہے تو ایسے دوستوں کو اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع دے دیا جائے گا۔مگر جو لوگ ریز رو کے طور پر علیحدہ رکھے گئے ہوں ضروری نہیں ہوتا کہ ان تک حصہ پہنچے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے، جیسے کسی کو کہا جائے کہ بچا ہوا کھانا ہم تمہیں دیں گے۔جب کسی کو یہ کہا جائے تو ضروری نہیں ہوتا کہ اسے کھانا ملے۔بلکہ اسے کھانا ملنا اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے کہ ضرورت سے زائد اگر کچھ بچا تو دیا جائے گا ورنہ نہیں۔اسی طرح ضروری نہیں تھا کہ ریزرو میں جن اضلاع یا جن افراد جماعت کو رکھا گیا تھا، ان کو اس تحریک میں شامل ہونے کا ضرور موقعہ ملتا۔بالکل ممکن تھا کہ یہ تحریک دوسرے دوستوں کے ذریعہ ہی پوری ہو جاتی۔اسی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں ان کا یہ اعتراض درست ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ ہماری جماعت کے وہ دوست ، جو فوج میں ملازم ہیں، ان کی طرف سے یہ سوال پیش ہوا ہے کہ ہم ایک ایسے مقام پر ہیں، جہاں ہماری جان جانے کا ہر وقت خطرہ ہے اور ہم اس مقام پر محض آپ کے ارشاد اور آپ کے حکم کی تعمیل میں آئے ہیں۔آپ نے ہمیں کہا کہ ہم جنگ میں بھرتی ہوں اور آپ نے ہمیں کہا کہ اس جنگ میں شامل ہونا انصاف کے قیام اور اسلام کی ترقی کے لئے محد ہے۔آپ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ، ہم جنگ میں شامل ہوئے اور اب ہر وقت اپنی جان کو قربان کرنے کے لئے ہم تیار کھڑے ہیں۔مگر ہمارا اس تحریک میں کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔جب ہم آپ کے حکم سے فوج میں بھرتی ہوئے ہیں اور مرکز سے دور چلے گئے ہیں تو قرآن کریم کے ترجمہ میں حصہ لینے سے اس لئے محروم رہ جانا کہ ہم دور ہیں اور ہم تک فوراً آواز نہیں پہنچ سکتی ، درست نہیں۔ان کی یہ بات بھی میرے نزدیک بہت معقول ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔اسی طرح پنجاب کے بہت سے اضلاع ایسے ہیں، جنہیں اس تحریک میں شامل نہیں کیا گیا۔مجھے ان اضلاع کی طرف سے ابھی تک اجتماعی رنگ میں کوئی خطوط موصول نہیں ہوئے۔میرے پاس یا تو 427