تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 422

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں دے سکتا، جب تک چھپ کر اس کی اشاعت نہ ہو۔اس لئے ان تراجم کا چھپوانا بھی ترجمہ ہی کا حصہ ہے اور جن کو تراجم میں حصہ لینے کا موقعہ نہیں ملا، وہ ان کی چھپوائی میں حصہ لے کر ثواب میں شریک ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ترجمہ جب تک چھپ نہ جائے بالکل ایسا ہی ہے، جس طرح ایک آدمی گونگا ہو اور بات نہ کر سکے اور بہرا ہو، کسی دوسرے کی بات بھی نہ سن سکے۔ایسے ہی ترجمہ بھی اس وقت تک بے کار ہے ، جب تک اسے شائع نہ کیا جائے۔پس تراجم کی اشاعت میں حصہ لینے والے تراجم کرانے میں حصہ لینے والوں سے کم نہیں۔انہوں نے ترجمہ کروانے میں حصہ لے کر ثواب حاصل کیا ، یہ اس ترجمہ کو چھپوا کر اسی ثواب میں شامل ہو سکتے ہیں۔جنہوں نے تراجم میں حصہ لے لیا ہے، انہوں نے اس لئے حصہ نہیں لیا کہ وہ دوسروں سے اخلاص میں زیادہ تھے بلکہ اس لئے کہ قرب میں رہنے کی وجہ سے ان کو حصہ لینے کا پہلے موقعہ دیا گیا۔ہماری شریعت کا فیصلہ ہے کہ جس کے اندر جوش اور اخلاص ہو ، خدا تعالیٰ اس کو ثواب میں حصہ دے دیتا ہے۔مگر چونکہ ظاہر طور پر حصہ نہ لے سکنے کا دل کو صدمہ ہوتا ہے، اس لئے میں نے ظاہر میں بھی موقعہ مہیا کر دیا ہے تا کہ مومنوں کے دلوں کو صدمہ نہ ہو اور وہ ظاہر و باطن میں ثواب کے کام میں شریک ہوں اور اسی غرض کے لئے میں نے ایک ایک ترجمہ قرآن کریم کی اشاعت اور ایک ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ ان سات حصوں پر تقسیم کر دیا ہے۔ایک ترجمہ قرآن مجید اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ سارے ہندوستان کی لجنہ اماءاللہ کے ذمہ لگایا ہے، ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ قادیان کی جماعت کے ذمہ ڈالا ہے، ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ لاہور ، امرتسر، شیخو پورہ، گوجرانوالہ اور فیروز پور کی جماعتوں پر ڈالا ہے، ایک قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ دہلی، بہار، یوپی اور ضلع لدھیانہ ضلع انبالہ اور ریاست پٹیالہ کے ذمہ لگایا ہے، ایک ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا بوجھ پہلے ہی کلکتہ کی جماعت نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے، ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا بوجھ حیدر آباد دکن، میسور، بمبئی ، مدراس اور اس کے ساتھ ملحقہ ریاستوں کے ذمہ لگایا ہے اور ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا بوجھ صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ کی جماعتوں کے ذمہ لگایا ہے۔یہ سات تراجم قرآن کی اشاعت اور سات کتب کی اشاعت کا خرچ ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے، یہ ذمہ داری اختیاری ہے، جبری نہیں۔جو حلقہ اس بوجھ کو نہ اٹھا سکے، وہ اطلاع دے، اس کا حصہ کسی دوسرے حلقہ کو دے دیا جائے گا۔پس جب ان علاقوں کی طرف سے اطلاع آجائے گی کہ انہوں نے یہ 422