تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 418
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم جماعت ہی یہ اکیس ہزارو پی کر و سکتی ہے مگر اس قسم کی ساری جماعتیں نہیں ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، کلکتہ کی جماعت نے ایک ترجمہ کا خرچ اور ایک ترجمہ کی اشاعت کا خرچ ، جس کے معنی ہیں، اکیس ہزار روپیہ اپنے ذمہ لیا ہے۔کلکتہ کی جماعت نے ابھی ابھی بغیر دوسرے لازمی چندوں میں کوئی کمی کرنے کے پچاس ہزا روپیہ وہاں کی مسجد کے لئے جمع کیا تھا۔اتنی بڑی قربانی کے بعد وہ بھی زیادہ روپیہ نہیں دے سکتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو توفیق دی اور انہوں نے اکیس ہزار و پیدا اپنے ذمہ لیا ہے۔مگر عام طور پر وہ حلقے ، جو ایک قرآن کریم کے ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کے ترجمہ اور اس کی اشاعت کا بوجھ اٹھا سکیں، اتنے وسیع ہیں کہ اپنے علاقہ سے مشورہ کرنا ان کے لئے بہت وقت چاہتا ہے۔سوائے قادیان کے حلقہ کے کہ یہ جماعت ایسی ہے کہ وہ اکیلی یہ بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بوجہ ایک شہر کی جماعت ہونے کے فورا مشورہ کر سکتی ہے۔باقی جماعتیں ایسی ہیں، جو اگر حصہ لینا چاہیں تو تین تین، چار چار یا پانچ پانچ ضلعے مل کر اس رقم کو پورا کر سکتی ہیں اور اس وجہ سے ان کا جلدی مشورہ کر کے اس تحریک میں حصہ لینے کی اطلاع دینا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔لیکن جن کے دلوں میں جوش اور اخلاص ہے، ان کو اس موقعہ سے محروم کر دینا بھی ظلم ہے۔مومن ہی سمجھ سکتا ہے کہ قربانی کا موقعہ نہ ملنے سے اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ منافق تو موقعہ نکل جانے پر سمجھتا ہے چلو چھٹی ہوئی۔مگر مومن کی اس چھ ہزار یا پانچ ہزار یا دس ہزار روپیہ کی قربانی کو اگر قبول نہ کیا جائے تو اس کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس کو دس ہزار روپیہ واپس کر دیا گیا ہے یا پانچ ہزار روپیہ واپس کر دیا گیا ہے یا چھ ہزار روپیہ واپس کر دیا گیا ہے بلکہ اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ چھ ہزار تنخر اس کے سینہ میں گھونپ دیا گیا ہے۔اس تکلیف کو وہی سمجھ سکتا ہے، جس کی روحانی آنکھیں ہوں۔دوسری دنیا اس تکلیف کو نہیں سمجھتی۔پس ان حالات کو مد نظر رکھ کر میں نے تجویز کیا ہے کہ قرآن مجید کے تراجم کی اشاعت کا خرچ اور سات زبانوں میں ایک ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ میں خود ہی علاقوں پر تقسیم کر دوں تا کہ سب کو اس تحریک میں حصہ لینے کا موقعہ مل سکے اور اس ثواب سے وہ محروم نہ رہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کلکتہ کی جماعت نے خود اپنے ذمہ اکیس ہزار روپیہ لیا ہے۔اس کے علاوہ وہاں کے ایک خاندان کے دو بھائیوں نے چھ ہزار روپیہ جماعت سے علیحدہ اپنے ذمہ لیا ہے۔پس وہاں سے یہ رقم آسانی سے جمع ہو سکتی ہے کیونکہ انہوں نے خود ہی یہ بوجھ اٹھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔پاس ان سات حصوں میں سے پہلے حصے کا بوجھ اٹھانے کا حق کلکتہ کو ملتا ہے۔یعنی قرآن مجید کے ایک ترجمہ کی چھپوائی اور ایک کتاب کی مکمل اشاعت کا خرچ اور یہ حق میں ان کو دیتا ہوں۔اگر وہ چاہیں تو ہماری طرف سے اجازت ہے کہ وہ بنگال کی دوسری جماعتوں کو بھی اس میں شامل کر لیں۔418