تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 412

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اکتوبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہم اڑھائی کروڑ روپیہ کی وقف شدہ جائیدادوں پر صرف پانچ فیصدی کا مطالبہ کریں تو بارہ تیرہ لاکھ روپیہ کی آمدنی چند ماہ میں ہو سکتی ہے۔پس اگر ہم دنیا میں وسیع پیمانہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ایسے رنگ میں تبلیغ کرنا چاہتے ہیں، جو دنیا میں ہیجان پیدا کر دے تو اس کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز ہو، جس کے ذریعہ ہم فوری ضرورت کو پورا کر سکیں۔ممکن ہے کسی ملک میں ایسا جوش پیدا ہو جائے کہ وہاں پر بہت سے مبلغین بھیجنے پڑیں اور ہمیں مبلغین کی تعداد اور خرچ کو بڑھانا پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک موقعہ پر اکٹھے چالیس مبلغ ایک قبیلہ کے لئے بھیجنے پڑے۔حالانکہ اس وقت صرف ہزاروں کی جماعت تھی اور محمد ود سلسلہ تھا مگر ایک قبیلہ کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس مبلغ بھیجے۔ایک دوسرے موقعہ پر آپ نے ایک جگہ ستر مبلغ بھیجے۔اسی طرح ممکن ہے، ہمیں بھی زیادہ مبلغین بھیجنے کی ضرورت پڑے۔ممکن ہے، روس میں ہماری تبلیغ سننے کا جوش پیدا ہو جائے یا امریکہ میں جوش پیدا ہو جائے یا جرمنی میں جوش پیدا ہو جائے یا چین میں جوش پیدا ہو جائے۔اگر ہم وقت پر ان کے جوشوں کو نہیں سنبھالیں گے تو وہ ٹھنڈے ہو جائیں گے۔اور اگر سنبھالیں گے تو کسے معلوم ہے کہ دو ہزار مبلغوں تک کی ضرورت یک دم پیش نہ آجائے؟ اگر ایسا ہوا تو ہمیں ان کے اخراجات کے لئے بہت سے روپیہ کی ضرورت پڑے گی اگر ہم لٹریچر وغیرہ ملا کر ایک مبلغ کا خرچ تین ہزار روپیہ اوسطا لگالیں تو ہمیں دو ہزار مبلغین کے لئے ساٹھ لاکھ روپیہ کی ضرورت پڑے گی۔پس جماعت کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنا چاہیے اور آنے والی ضرورت کو آج ہی محسوس کر کے اس کے لئے سامان مہیا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔دوسری طرف تبلیغ پر بھی ہمیں زور دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت ہماری تعداد بہت کم ہے اور جتنا وسیع ہمارا کام ہے، اتنی بنیاد نہیں۔عمارت بنانے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خیال رکھا جاتا ہے، وہ بنیاد ہے۔بنیاد جتنی مضبوط ہوگی اور اس میں جتنی روڑی کوئی جائے گی ، عمارت بھی اتنی مضبوط ہوگی اور بلند جاسکے گی۔دین کی جو عمارت بنے گی، اس میں ہماری حیثیت روڑی کی ہے اور ہمارا مقام روڑی کا ہے۔اس لئے ہماری جتنی کو ٹائی ہوگی ، ہم پر بننے والی عمارت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔" اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بڑی سے بڑی عمارت کا قیمتی حصہ وہ روڑی ہوتی ہے، جو اس کی بنیادوں میں کوئی جاتی ہے۔صحابہ ” کی روڑی اور اس کی کو ٹائی اتنی مضبوط تھی کی تیرہ سو سال تک کام دیتی رہی اور اس پر مضبوط عمارت قائم ہوئی۔پس جتنی زیادہ گہری بنیاد ہوگی اور اس میں جتنی زیادہ روڑی 412