تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 411

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اکتوبر 1944ء کی جائیداد ہو تو اس سے پانچ روپیہ کی آمد درست سمجھی جاتی ہے۔پس اس کے برخلاف اگر پانچ روپیہ کی آمد وقف ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک سو روپیہ کی جائیداد وقف ہو گئی۔چونکہ ایک لاکھ میں ہزار روپیہ کی آمد وقف ہو چکی ہے، اس لئے حسابی لحاظ سے ہم کہیں گے کہ چھبیس لاکھ روپیہ کی جائیداد وقف ہوگئی ہے۔اس حساب سے بجائے نوے لاکھ کے، ایک کروڑ سترہ لاکھ کی جائیداد وقف ہو چکی ہے۔ابھی جماعت میں بہت سا حصہ باقی ہے۔اگر وہ بھی اس امر کو سمجھیں کہ یہ چیز بہت ضروری ہے تو یہ وقف جائیداد کا فنڈ بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے۔زمیندار طبقہ نے اس طرف بہت کم توجہ کی ہے۔اس وقت تک جس قسم کے لوگوں نے سوا کروڑ روپیہ کی جائیداد میں وقف کی ہیں، ان کے مقابلہ میں صرف سرگودھا، لائل پور اور منٹگمری کے علاقوں میں ایک کروڑ روپیہ کی جائیدادیں وقف ہو سکتی ہیں۔بہر حال اس وقت تک ایک کروڑ سترہ لاکھ روپیہ کی جائیدادیں وقف ہو چکی ہیں۔اگر کسی وقت ہم اس کے پانچ فیصدی کا مطالبہ کریں تو اس کے معنی ہیں، ہو اچھ لاکھ یا اس سے زیادہ روپیہ ہم ضرورت کے وقت مہیا کر سکتے ہیں اور اگر وقف جائیداد کی تحریک مکمل ہو جائے اور جن لوگوں نے ابھی تک اس میں حصہ نہیں لیا، وہ بھی حصہ لیں تو پھر اس روپیہ کی مقدار جسے ہم ضرورت کے وقت مہیا کر سکتے ہیں اور بھی بڑھ جائے گی۔لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں، یہ آخری حد اور ہماری آخری خندق ہوگی۔اس سے پہلے ہم اپنا سا راز ور ر لگا دیں گے کہ طوعی چندہ سے سلسلہ کی ضرورتیں پوری ہوں۔وقف جائیداد کی سکیم ہماری آخری خندق ہے۔مگر یہ ایسی چیز ہے اور ایسی شاندار خندق ہے کہ اس کی وجہ سے کام کرنے والوں کی ہمتیں بڑھ جاتی ہیں اور حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ، جب کوئی صورت نہ رہے گی تو ہمارے پاس ایک ایسی چیز موجود ہے، جس سے کام کی ضرورت کے مطابق ہم روپیہ لے سکتے ہیں۔اس وقت تک ساری جماعت نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔اس وقت تک صرف سولہ سو کے قریب آدمیوں نے وقف جائیداد کی تحریک میں حصہ لیا ہے اور یہ قریباً سوا کروڑ روپیہ کا وقف صرف سولہ سو آدمیوں کی جائیدادوں اور آمد نیوں کے وقف سے قائم ہوا ہے۔اگر جماعت کے باقی افراد بھی اس کی اہمیت کو سمجھیں اور اس تحریک میں حصہ لیں بلکہ اگر صرف پانچ ہزار آدمی ہی اس تحریک میں حصہ لیں تو یہ تحریک بہت مضبوط ہوسکتی ہے۔اور اس وقت تک جتنی جائیدادیں وقف ہو چکی ہیں، اگر ہم ان وقف کرنے والوں کی جائیدادوں کی قیمت موجودہ واقفین کی جائیداد کی قیمت سے نصف بھی لگالیں تو بھی موجودہ وقف شدہ جائیدادیں ملا کر اڑھائی کروڑ روپیہ کا وقت ہو جائے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔جس کے یہ معنی ہیں کہ اگر 411